سوال 6961

السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
اکثر سننے میں آتا ہے جی کہ فلاں بندہ کو بڑے مبارک دن موت آئی ۔کیا شرعی اعتبار سے جمعرات ، جمعہ یا رمضان المبارک میں فوت ہونا قبر یا حشر میں قابل قدر ہو گا۔
مندرجہ بالا بیان میں فوت ہونے والا خواہ کبھی نماز بھی نہ پڑھیں ہو؟

جواب

وعليكم السلام و رحمة الله و بركاته
بلاشبہ جمعرات،جمعہ کی اپنی، اپنی شان ہے، مگر جو ان دنوں میں فوت ہوگا تو اس کا حساب نہیں ہو گا یا وہ قبر کے عذاب سے محفوظ رہے گا یا حشر کے میدان میں قابل قدر ہوگا، یہ سب بلا دلیل باتیں ہیں قرآن کریم اور صحیح احادیث میں اس بارے میں کوئی صراحت وضاحت موجود نہیں ہے۔
خاص طور پر جمعہ کے دن یا رات کو فوت ہونے کے متعلق مروی تمام روایات ضعیف و ناقابل حجت ہیں۔
رب العالمین نے کس کو معاف کرنا، کس کو سزا دینی ہے اور کس کا خاتمہ ایمان پر ہوا ہے یہ چیزیں ایمان بالغیب سے تعلق رکھتی ہیں ہم البتہ اہل ایمان کے بارے میں اچھا گمان رکھ سکتے ہیں، ان کے لئے بخشش کی دعا کر سکتے ہیں مگر کسی کو حتمی جنتی، اور جہنمی قرار نہیں دے سکتے ہیں ماسوائے ان کے جنہیں قرآن و حدیث نے قطعی جنتی اور جہنمی قرار دیا ہے۔ والله أعلم بالصواب

فضیلۃ العالم ابو انس طیبی حفظہ اللہ