سوال (5629)

کیا مچھلی حلال ہے؟

جواب

جی ہاں مچھلی حلال ہے۔

فضیلۃ العالم اکرام اللہ واحدی حفظہ اللہ

سائل: وہ تو ہے، ایک عالم کو سن رہا تھا وہ کہتے ہیں قرآن میں نہیں حلال حدیث میں حلال ہوئی ہے؟
جواب: شکر ہے حدیث سے تو مان لیا ہے، باقی دریا سمندر سے مچھلی نکلتی ہے اس کے شکار کا مطلب حلال ہی ہے، باقی ان عالم سے اس توجیہ کی دلیل پوچھ لیں۔

فضیلۃ العالم اکرام اللہ واحدی حفظہ اللہ

سائل: مچھلی کو حلال کرنے کے لیے حدیث کو دیکھنا پڑے گا، قرآن میں اگر صرف دیکھیں تو مچھلی حرام ہے، اس لیے پوچھا کہ اس آیت میں تو مچھلی حلال قرآن پاک میں ہی لکھا ہے؟
جواب: و طعامہ سے کھانا مراد ہے، مچھلی کا شکار زندہ کا ہوتا ہے پھر پانی سے باہر نکل کر مردہ ہوتی ہے اور یہی کیفیت اس کے حلال کی ہے اس کیفیت کو حدیث نے بیان کیا ہے، ویسے اگر مچھلی پانی سے خود اوپر آ جائے تو وہ بھی حلال ہی ہے۔

فضیلۃ العالم اکرام اللہ واحدی حفظہ اللہ

سائل: قران پاک کی اس ایت سے زندہ مچھلی حلال ہے یا مردہ؟ یا دونوں؟
جواب: مچھلی حلال ہے، قرآن و حدیث دونوں کو جمع کریں گے تو آپکا جواب واضح ہو جائے گا، پانی کے اندر کی زندہ کا شکار کریں یا خود سے پانی کے اوپر آئی کو اٹھائیں، دونوں حلال ہیں، پانی سے باہر نہ رہنے والی چیز کا ذبح یہی ہے۔

فضیلۃ العالم اکرام اللہ واحدی حفظہ اللہ

قرآن کریم میں ہی رب العالمین کاارشاد ہے:

وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانتَهُوا ۚ وَاتَّقُوا اللَّهَ، [الحشر: 7]

اور رسول تمھیں جو کچھ دیں تو وہ لے لو اور جس سے تمھیں روک دیں تو رک جاؤ اور الله سے ڈرو۔
اس آیت کی تفسیر میں مفسر قرآن حافظ عبدالسلام بن محمد بھٹوی رحمة الله عليه لکھتے ہیں:
آیت کے الفاظ عام ہیں، اس لیے یہ صرف اموال کی تقسیم تک محدود نہیں بلکہ اس میں حکم دیا گیا ہے کہ ہر معاملے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کرو۔ اس کی وضاحت اس بات سے بھی ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا:

”مَا أَتَاكُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْهُ وَمَا مَنَعَكُمْ فَلَا تَأْخُذُوْهُ”

کہ رسول تمھیں جو دے وہ لے لو اور جو نہ دے وہ نہ لو، بلکہ فرمایا جس سے روک دے اس سے رک جاؤ، جس سے منع کر دے اس سے باز آ جاؤ۔ اس سے معلوم ہوا کہ آیت کا مقصد آپ کے حکم کی اطاعت ہے۔ چنانچہ اس آیت نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کو مستقل قانون کی حیثیت دے دی ہے اور یہ شرط نہیں رکھی کہ وہی حکم مانو جو قرآن مجید میں ہو، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا جو حکم بھی صحیح حدیث سے ثابت ہو واجب العمل ہے۔ اس کی تائید اس حدیث سے ہوتی ہے جو ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

( دَعُوْنِيْ مَا تَرَكْتُكُمْ، إِنَّمَا هَلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ بِسُؤَالِهِمْ وَاخْتِلاَفِهِمْ عَلٰی أَنْبِيَاهمْ، فَإِذَا نَهَيْتُكُمْ عَنْ شَيْءٍ فَاجْتَنِبُوْهُ، وَ إِذَا أَمَرْتُكُمْ بِأَمْرٍ فَأْتُوْا مِنْهُ مَا اسْتَطَعْتُمْ ) [بخاري، الاعتصام بالکتاب والسنۃ، باب الاقتداء بسنن رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم: ۷۲۸۸ ]

مجھے اس وقت تک رہنے دو جب تک میں تمھیں چھوڑے رکھوں، کیونکہ تم سے پہلے لوگ اپنے انبیاء سے سوال اور ان سے اختلاف کی وجہ سے ہلاک ہوگئے۔ تو جب میں تمھیں کسی چیز سے منع کر دوں تو اس سے دور رہو اور جب میں تمھیں کسی کام کا حکم دوں تو اس میں سے جتنا کر سکتے ہو کرو۔
اور جلیل القدر صحابی عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بھی اس آیت سے یہی بات سمجھی ہے۔ چنانچہ ان کے شاگرد علقمہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ انھوں نے فرمایا:

(لَعَنَ اللّٰهُ الْوَاشِمَاتِ وَالْمُوْتَشِمَاتِ وَالْمُتَنَمِّصَاتِ وَالْمُتَفَلِّجَاتِ لِلْحُسْنِ، الْمُغَيِّرَاتِ خَلْقَ اللّٰهِ)

اللہ تعالیٰ نے ان عورتوں پر لعنت کی ہے جو جلد میں سوئی کے ساتھ نیل بھر کر نقش و نگار بنانے والی ہیں اور جو بنوانے والی ہیں اور جو چہرے کے بال اکھاڑنے والی ہیں اور جو خوب صورتی کے لیے سامنے کے دانتوں میں فاصلہ بنانے والی ہیں، اللہ کی پیدا کردہ شکل کو بدلنے والی ہیں۔ بنو اسد کی ایک عورت ام یعقوب کو یہ بات پہنچی
تو وہ آئی اور کہنے لگی: مجھے پتا چلا ہے کہ آپ نے فلاں فلاں کام کرنے والی عورتوں پر لعنت کی ہے؟ تو انھوں نے فرمایا: ’’میں اس پر لعنت کیوں نہ کروں جس پر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت کی ہے اور جو اللہ کی کتاب میں موجود ہے؟‘‘ اس عورت نے کہا : ’’میں نے دو تختیوں کے درمیان جتنا قرآن ہے سارا پڑھا ہے، مگر مجھے اس میں یہ بات نہیں ملی جو آپ کہہ رہے ہیں۔‘‘ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ’’اگر تم اسے پڑھتی تو تمھیں ضرور مل جاتی، کیا تم نے یہ نہیں پڑھا:

﴿وَ مَا اٰتٰىكُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْهُ وَ مَا نَهٰىكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوْا﴾ [ الحشر: ۷ ]

اور رسول تمھیں جو کچھ دے تو وہ لے لو اور جس سے تمھیں روک دے تو رک جاؤ ۔ اس نے کہا : کیوں نہیں؟ فرمایا : ’’تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے۔‘‘ اس نے کہا : میرا خیال تو یہ ہے کہ آپ کے گھر والے یہ کام کرتے ہیں۔ فرمایا: ’’جاؤ اور دیکھو۔‘‘ وہ گئی، دیکھا مگر اسے اپنے مطلب کی کوئی چیز دکھائی نہ دی، تو (ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے) فرمایا: ’’اگر وہ (میری بیوی) ایسی ہوتی تو ہمارے ساتھ نہ رہتی۔‘‘ [ بخاري، التفسیر، باب: ﴿وما آتاکم الرسول فخذوہ﴾: ٤٨٨٦]
اور اس آیت کے آخر پر یوں ارشاد فرمایا:

وَ اتَّقُوا اللّٰهَ اِنَّ اللّٰهَ شَدِيْدُ الْعِقَابِ،

یعنی الله سے ڈرتے رہو اور یاد رکھو! اگر تم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کی تعمیل نہ کی یا آپ کے منع کردہ سے باز نہ آئے تو اللہ کی سزا بہت سخت ہے۔
تفسیر القرآن الکریم ،تفسیر سورۃ الحشر:(7)
یاد رکھیں حلال و حرام کا اختیار کسی بھی نبی اور رسول کو نہیں دیا گیا ہے بلکہ وہ جسے بھی حلال وحرام کہتے ہیں تو وحی کی بنیاد پر کہتے ہیں۔
قرآن کریم کا ایک مقام ملاحظہ کریں:

يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَا أَحَلَّ اللَّهُ لَكَ ۖ تَبْتَغِي مَرْضَاتَ أَزْوَاجِكَ ۚ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ،

اے نبی! آپ کیوں حرام کرتے ہیں جو الله نے آپ کے لیے حلال کیا ہے؟ آپ اپنی بیویوں کی خوشی چاہتے ہیں، اور الله بہت بخشنے والے، نہایت رحم والے ہیں۔
التحریم:(1) پ:28
اس آیت سے معلوم ہوا کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم خود اپنی مرضی سے کسی چیز کو حلال وحرام کہنے کا اختیار نہیں رکھتے بلکہ وہ اسے ہی حلال وحرام بیان کرتے ہیں جسے خود الله تعالى نے حلال وحرام قرار دیا ہو چاہے اس کی صراحت قرآن مجید میں ہو یا حدیث میں ہو۔
قرآن کریم کا تیسرا مقام:

وَمَا يَنطِقُ عَنِ الْهَوَىٰ إِنْ هُوَ إِلَّا وَحْيٌ يُوحَىٰ، النجم:(4)

اور نہ وہ اپنی خواہش سے بولتے ہیں وہ تو صرف وحی ہے جو نازل کی جاتی ہے۔
اس آیت سے معلوم ہوا کہ دین وشریعت کی ہر بات جسے رسول اکرم صلی الله علیہ وسلم نے بیان فرمایا ہے وہ وحی نازل ہونے پر ہی فرمایا ہے۔
دوسری بات جو ثابت ہوئی وہ یہ کہ حدیث رسول اکرم صلی الله علیہ وسلم بلاشبہ وحی ہے۔
قرآن کریم میں ایسی کوئی آیت موجود نہیں ہے کہ صرف قرآن کریم ہی وحی اور حجت ہے حدیث وحی اور حجت نہیں ہے۔
قرآن کریم کی کئ آیات بینات میں رسول اکرم صلی الله علیہ وسلم کی اطاعت و اتباع کرنے کا حکم دیا ہے اور وہ اطاعت و اتباع حدیث پر ایمان لانے بغیر ممکن ہی نہیں ہے اسی طرح حدیث کے بغیر قرآن کریم کے احکام و ورود کو سمجھنا ناممکن ہے۔
ہم اس مسئلہ پر کئ قرآن کریم سے آیات اور صحیح احادیث پیش کر سکتے ہیں مگر مسئلہ سمجھانا مقصود ہے سو اسے سمجھ لیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے جس چیز کی حلت و حرمت بیان فرمائی ہے وہ اپنی مرضی سے بیان نہیں فرمائی بلکہ وحی الہی کی بنیاد پر بیان فرمائی ہے اور وحی کی کئ اقسام ہیں جسے خود قرآن مجید نے بیان فرمایا ہے۔ اس لئے مچھلی حلال ہے اسی لئے اسے زمانہ وحی سے لے کر آج تک مسلمان حلال سمجھتے ہوئے کھاتے آے ہیں۔ اور ایسی باتیں جو سائل نے ذکر کی ہیں صرف منکرین حدیث ہی کہتے ہیں اور منکرین ِحدیث درحقیقت منکرین قرآن ،منکرین اسلام ہیں۔

فضیلۃ العالم ابو انس طیبی حفظہ اللہ