سوال (6072)

کیا میت کو کلی کروانا حدیث سے ثابت ہے؟

جواب

علامہ نووی رحمہ اللہ نے المجموع شرح المھذب میں اسے مستحب قرار دیا اور بعض ائمہ کا یہ موقف بیان کیا۔

“سبق أن مذهبنا استحباب المضمضة في غسل الميت والاستنشاق، وبه قال مالك وأحمد وداود وابن المنذر وقال أبو حنيفة لا يشرعان وحكاه ابن المنذر عن سعيد بن جبير والنخعي والثوري. دليلنا قوله صلى الله عليه وسلم” {وابدأن بمواضع الوضوء منها}”

دلیل حدیث ام عطیہ ہے کہ انہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ مواضع الوضوء سے ابتداء کرنا”
مسئلہ استحبابی ہے لہذا حتی المقدور کلی و ناک میں پانی ڈالا جائے، اگر ممکن نہ ہو تو روئی یا کپڑا گیلا کر کے ہونٹوں کے اندر اور ناک کے اندر پھیر دیا جائے۔ واللہ اعلم

فضیلۃ العالم فہد انصاری حفظہ اللہ