سوال 6964

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وسیلے سے دعا اس حوالے سے مفصل تحریر بھیج دیں۔

جواب

السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات کے وسیلے سے دعا کرنا ثابت نہیں۔
زندہ شخص سے دعا کروانا جائز ہے۔ جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قبر/ذات کے وسیلہ سے دعا نہیں کی بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے (زندہ) چچا سے دعا کروائی۔
[بخاری : 1010]
لیکن فوت شدہ کے وسیلہ سے دعا کرنا یہ مردود عمل ہے۔شریعت میں اس کا کوئی جواز نہیں۔
قرآن میں بھی جن مقامات پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ کے کسی کے لیے بخشش طلب کرنے، یہ صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کے دعا کروانے کا تعلق ہے، تو یہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زندگی کے ساتھ ہی خاص تھا، اور ہم بھی نیک شخص سے اس کی زندگی میں دعا کروانے تو بلاشبہ جائز سمجھتے ہیں۔ لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کے بعد کسی صحابی رضی اللہ عنہ نے بھی نہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات کے وسیلہ سے دعا کی نا ہی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قبر کے وسیلے سے۔
قیامت والے دن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سامنے موجود ہوں گے، تو شفاعت کریں گے۔
[بخاری: 1475]
نابینا صحابی (رضی اللہ عنہ)کے دعا کرنے والی روایت میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات کا وسیلہ نہیں بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دعا کا وسیلہ ہے جو آپ نے ان کے لیے اس وقت کی تھی۔
[ترمذی : 3578، سندہ صحیح]
زندہ شخص کی دعا کے وسیلے سے تو دعا کرسکتے ہیں لیکن اس کی ذات کے وسیلے سے دعا کرنا باطل ہے۔
ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فضیلۃ الباحث ابو زرعہ احمد بن احتشام حفظہ اللہ