سوال (510)

کیا قسطوں پہ چیز لینا جائز ہے؟ بینک یا پھر باہر سے لے سکتے ہیں؟ اس حوالے سے رہنمائی فرمائیں۔

جواب

قسطوں کے کاروبار میں اختلاف ہے، لیکن ہمارے علماء و مشایخ کے نزدیک قسطوں کا کاروبار جائز ہے، دو شرطوں کے ساتھ:
1۔ خرید و فروخت کے وقت چیز کی قیمت طے شدہ ہو۔
2۔ قسط کی تاخیر پر جرمانہ وغیرہ نہ دینا پڑے۔
ان دو چیزوں کا خیال رکھا جائے تو پھر قسطوں کا کاروبار جائز ہے، ورنہ نہیں۔
بینک میں یا عموما دیگر بزنس مین ان چيزوں کا خیال نہیں رکھتے، لہذا کسی بھی جگہ سے چیز لینے سے پہلے اچھی طرح سے تاکید کر لی جائے کہ ان کے ہاں سود کاری سے بچنے کا اہتمام کیا جاتا ہے یا نہیں!

فضیلۃ العالم حافظ خضر حیات حفظہ اللہ

سوال: قسطوں میں چیز لینے کی شرعی حیثیت ہے؟

جواب: قسطوں پر کوئی چیز خریدنا جائز ہے  اکثر اہل علم کے نزدیک، نقد رقم اور ادھار کا فرق کوئی مانع نہیں رکھتا، بس پیسے طے ہوں، اور لیٹ قسط پر جرمانہ نہ ہو۔

فضیلۃ العالم فہد انصاری حفظہ اللہ