سوال (4881)

کیا رات کو سوتے وقت روح چلے جاتی ہے؟

جواب

ارشاد باری تعالیٰ ہے۔

“اَللّٰهُ يَتَوَفَّى الۡاَنۡفُسَ حِيۡنَ مَوۡتِهَا وَالَّتِىۡ لَمۡ تَمُتۡ فِىۡ مَنَامِهَا‌ ۚ فَيُمۡسِكُ الَّتِىۡ قَضٰى عَلَيۡهَا الۡمَوۡتَ وَ يُرۡسِلُ الۡاُخۡرٰٓى اِلٰٓى اَجَلٍ مُّسَمًّى‌ؕ اِنَّ فِىۡ ذٰ لِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوۡمٍ يَّتَفَكَّرُوۡنَ” [الزمر: 42]

اللہ جانوں کو ان کی موت کے وقت قبض کرتا ہے اور ان کو بھی جو نہیں مریں ان کی نیند میں، پھر اسے روک لیتا ہے جس پر اس نے موت کا فیصلہ کیا اور دوسری کو ایک مقرر وقت تک بھیج دیتا ہے۔ بلاشبہ اس میں ان لوگوں کے لیے یقینا بہت سی نشانیاں ہیں جو غور و فکر کرتے ہیں۔
روح کے قبض کے دو پہلو ہیں، ایک موت کے وقت روح قبض کی جاتی ہے، ایک نیند کے وقت روح قبض کی جاتی ہے۔ جیسا کہ دعا ہے کہ

“اللهم باسمك أموت و احيي”، “الحمد لله الذي أحيانا بعد ما اماتنا”

نیند کا جزوی طور پہ موت کے ساتھ ایک جزوی تعلق ہے، لیکن سانس اس کی چل رہی ہوتی ہے، یہ وہی روح ہے جو گھومتی ہے، کبھی جنت میں ہوتی ہے، کبھی بھاگ رہی ہے، کبھی دوڑ رہی ہے، بعض اوقات انسان کو کوئی اٹھاتا ہے تو یہ روح فورا واپس آ جاتی ہے، ایک روح جس کو نکال دیا جاتا ہے، ایک روح چلا رہی ہوتی ہے۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے۔

“وَيَسۡــئَلُوۡنَكَ عَنِ الرُّوۡحِ‌ؕ قُلِ الرُّوۡحُ مِنۡ اَمۡرِ رَبِّىۡ وَمَاۤ اُوۡتِيۡتُمۡ مِّنَ الۡعِلۡمِ اِلَّا قَلِيۡلًا” [الإسراء: 85]

اور وہ تجھ سے روح کے بارے میں پوچھتے ہیں، کہہ دے روح میرے رب کے حکم سے ہے اور تمھیں علم میں سے بہت تھوڑے کے سوا نہیں دیا گیا۔
روح کے بارے میں ویسے بھی کم علم دیا گیا ہے، مزید اگر دیکھنا چاہتے ہیں تو شیخ عبد الرحمٰن کیلانی رحمہ اللہ کی عذاب القبر روح سماع موتی دیکھ لیں، یا ابن قیم کتاب الروح دیکھ لیں، لیکن محتاط ہو کر دیکھیں۔

فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ

سائل: جان اور روح میں کیا فرق کریں گے؟ بعض لوگ کہتے ہیں کہ جان تو ہر جاندار میں ہے مگر روح صرف انسان میں ہے جسے شعور سے تعبیر کرتے ہیں اور حوالہ دیتے ہیں کہ اللہ نے اس کی نسبت خاص اپنی طرف کی ہے۔
جواب: ایک لفظ روح استعمال ہوا ہے، ایک لفظ نفس استعمال ہوا ہے، روح کو نفس اور نفس کو روح کہتے ہیں، بس یہاں سے لوگوں نے فرق کرنا شروع کردیا ہے، یہ نفس ہے، یہ روح ہے، یہ جاندار ہے، واللہ اعلم ہمارے نزدیک کوئی فرق نہیں ہے، حدیث میں روح کو نفس اور نفس کو روح کہا گیا ہے۔

فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ