سوال (6172)

تاریخی حوالہ جات
1. تاریخ الطبری (امام طبری)
روایت ہے کہ 7 محرم الحرام کو عمر بن سعد نے عمرو بن حجاج کو چند سپاہیوں کے ساتھ فرات کے کنارے تعینات کر دیا تاکہ امام حسینؓ اور ان کے ساتھی پانی نہ لے سکیں۔ (تاریخ الطبری، جلد 5، صفحہ 425)
اصل عبارت (عربی):
“وجعل عمرو بن الحجاج على الشريعة، ومنعوا الحسين وأصحابه أن يَرِدوا الماء.”
یعنی “عمرو بن حجاج کو دریا کے کنارے مقرر کیا گیا اور حسینؓ و ان کے ساتھیوں کو پانی لینے سے روک دیا گیا۔”
2. البدایہ والنہایہ (ابنِ کثیر)
ابنِ زیاد کے حکم سے فرات کا پانی روک دیا گیا اور امام حسینؓ کے خیموں تک پانی پہنچنے نہیں دیا گیا۔
(البدایہ والنہایہ، ابن کثیر، جلد 8، صفحہ 176)
3. تاریخ ابنِ اثیر – الکامل فی التاریخ
یزیدی لشکر نے امام حسینؓ کے خیموں کے گرد پہرا دے دیا اور انہیں پانی تک رسائی سے روک دیا۔
(الکامل فی التاریخ، ابن اثیر، جلد 4، صفحہ 66)
4. مقاتل الطالبیین (ابوالفرج اصفہانی)
7 محرم کے دن عمر بن سعد نے اپنے سپاہیوں کو حکم دیا کہ پانی بند کر دو اور حسینؓ کے خیموں کو فرات سے کاٹ دو۔ (مقاتل الطالبیین، صفحہ 79)
مدت کتنی تھی؟7 محرم سے 10 محرم (تین دن تک) امام حسینؓ اور اہلِ بیتؓ شدید پیاس میں رہے۔
بچے اور خواتین پیاس سے نڈھال ہو گئے، حتیٰ کہ امام حسینؓ کے چھ ماہ کے بیٹے حضرت علی اصغرؓ تک کو پانی نہ دیا گیا۔
نتیجہ :تاریخی اعتبار سے یہ قطعی طور پر ثابت ہے کہ:
پانی 7 محرم کو بند کیا گیا۔
امام حسینؓ تین دن پیاسے رہے۔
یہ یزیدی ظلم و جبر کا واضح ثبوت.

جواب

یہ تمام روایات ضعیف ہیں، ان کے پیچھے ابو مخنف ہے، جو کہ ایک شیعہ راوی ہیں، انہوں نے یہ روایات گھڑی ہیں، ان تمام روایات کو کھنگال لیا جائے تو پتا چل جائے گا۔

فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ