سوال (5416)
کیا سوئے ہوئے شخص کو فجر کی نماز کے لیے جگانا درست ہے؟ جبکہ نیند کی حالت میں انسان شرعی احکام کا مکلف نہیں ہوتا، اور اس پر گناہ نہیں ہوتا، ایک حدیث ملتی ہے اس پر لیکن وہ ضعیف ہے، کیا قرآن و سنت سے اس بات کی کوئی دلیل ملتی ہے کہ سوتے ہوئے شخص کو نماز کے لیے جگانا جائز اور درست عمل ہے؟
جواب
نماز سب سے بڑا فریضہ ہے، اس کے لیے لوگوں کو اٹھانا اور ترغیب دینا یہ مباح اور مستحسن عمل ہے، دلیل تو ان کو دینی چاہیے جو اس کام سے روکتے ہیں، ہمارے ہاں ایک کام غلط کرتے ہیں، اوپر وہ دلیل کا مطالبہ کرتے ہیں، صلاۃ و سلام آپ پڑھتے ہیں، دلیل آپ دیں، نماز سے اٹھانے کے لیے آپ روکتے ہیں، دلیل آپ کے ذمے ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ قیام الیل کے لیے کہا تھا کہ حجرے والوں کو اٹھاو، اگر نفل کے لیے اٹھایا جا سکتا ہے۔ فرض کے لیے اٹھانا جائز ہے۔
فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ
استاد محترم شیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ نے مصروفیت کی وجہ سے مختصرا حکم بمعہ شرعی دلیل بیان کر دیا ہے میں بھائی کی مزید تسلی کے لیے کچھ وضاحت کر دیتا ہوں۔
پہلے ایک اور شرعی دلیل بتا دیتا ہوں سنن ابی داؤد سنن نسائی اور سنن ابن ماجہ وغیرہ میں حسن حدیث ہے کہ اللہ اس شوہر پہ رحم کرے جو بیوی کو تہجد کی نماز کے لیے اٹھاتا ہے اور فان رش فی وجھھا الما یعنی اگر نہ اٹھے تو پانی کے چھینٹے مارتا ہے اسی طرح بیوی کا بھی بتایا گیا ہے۔
پس جب نفل نماز کے لیے اٹھانا جائز ہے تو فرض کے لیے بالاولی جائز ہو گا جیسے فلا تقل لھما اف میں والدین کو آف کہنا منع ہے تو اسکو ڈانٹنا مارنا بالاولی منع ہو گا۔
اور بھی بہت سے شرعی دلائل ہیں لیکن ابھی ایک ہی کافی ہے البتہ عقلی دلائل بھی دینا چاہوں گا کیونکہ سوال میں یہ اشکال ڈالا گیا ہے کہ جب وہ نیند میں نماز پڑھنے کا مکلف ہی نہیں تو اٹھانا کیوں ضروری ہے یعنی اوپر حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیوں اٹھانے کا کہا۔
تو پیارے بھائی یہ اصول اچھی طرح سمجھ لیں کہ اسکا کسی بات کا مکلف ہونا اسکے ساتھ خاص ہے اور آپ کا کسی بات کا مکلف ہونا آپ کے ساتھ خاص ہے۔
یہاں آپ دو چیزوں کو مکس کر رہے ہیں دلیل اسکے مکلف نہ ہونے کی دے رہے ہیں اور ثابت اسکو اپنے مکلف نہ ہونے کے لیے کر رہے ہیں۔
بھائی وہ نیند میں نماز پڑھنے کا مکلف نہیں تو آپ اسکے اٹھانے کے بھی کیا مکلف نہیں رہیں گے۔
اس طرح تو پوری شریعت ہی ختم ہو جائے گی وہ ایسے کہ ایک نئے مسلمان کو علم ہی نہیں کہ شراب حلال ہے یا حرام اب وہ پیتا ہے اب وہ تو لاعلمی کی وجہ سے رکنے کا مکلف نہ ہو گا تو کیا آپ اسکو نہیں بتائیں گے کیا آپ بتانے کے مکلف نہیں اس طرح تو پورا کا پورا دعوت دین کا سلسلہ ہی ختم ہو جائے گا۔
اسی طرح کوئی جنبی انسان پانی ہی نہیں رکھتا تو وہ غسل کا مکلف ہی نہیں تیمم کر سکتا ہے تو کیا آپ کے پاس اگر پانی ہو تو اسکو نہیں دیں گے؟
آخر پہ ایک اہم اصول بتا دوں کہ کسی غیر مکلف کو مکلف بنانا بعض دفعہ مستحب بلکہ حسب استطاعت لازم ہوتا ہے جب وہ مکلف بن کر ادنی درجے سے اعلی درجے میں جا رہا ہو۔
متلا مجنون مکلف نہیں لیکن اگر آپ علاج کروا کر اسکو ٹھیک کروا سکتے ہیں تو وہ اعلی درجے میں چلا جائے گا تو یہ حسب استطاعت لازم ہو گا۔
اسی طرح فجر کی نماز پڑھنے سے انسان اعلی درجے میں چلا جاتا ہے پس اسکو غیر مکلف سے مکلف بنانا لحسب استطاعت لازم ہو گا کیونکہ الصلوہ خیر من النوم کے تحت بھی نماز پڑھنے والا نیند والے سے اعلی درجے میں ہوتا ہے اور بھی دلائل ہیں۔ واللہ اعلم بالصواب
فضیلۃ العالم ارشد حفظہ اللہ
میرا سوال ہے کیا حالت نیند میں والدین کی اطاعت فرض ہے؟
کیا حالت نیند میں بیوی بچوں کی دیکھ بال فرض ہے؟
کیا حالت نیند میں آفس اور کالج،یونیورسٹی میں لیکچر وتعلیم کے لئے جانا فرض ہے؟ کیا ان تمام چیزوں کا وہ سونے کی حالت میں مکلف ہے؟
جواب ہو گا نہیں نیند میں یہ سب فرائض لاگو نہیں ہوتے ہیں۔
پھر سوال ہے کہ کیا وہ آفس کے وقت میں سویا رہے گا یا اٹھے گا اور جائے گا؟
کیا کالج اور یونیورسٹی کے لئے جسے گا یا سویا رہے گا کیونکہ وہ اب مکلف وزمہ دار نہیں ہے۔
تو ان کی طرف سے جواب ہو گا جی ضرور جائے گا اگر نہیں گیا تو ہیڈ اور ڈین صاحب اچھی طرح سے کلاس لیں گے ڈانٹ بھی پڑے گی جھڑکیں بھی پڑھیں گیں اور اگر یہ معاملہ یونہی چلتا رہا تو بستر گول کر کے گھر بھی بھیج دیں گے۔ ایسے ہی یہ صاحب سو رہے ہیں اور پاس میں والدین اچانک بیمار ہو گئے اور شدید بیمار ہو گئے اس نے ان کی کراہنے اور تکلیف سے نکلنی والی آواز بھی سن لی تو کیا یہ کہتے ہوئے کہ میں اب مکلف نہیں ،میں اب مکلف نہیں کیونکہ سو رہا ہوں اور سوتا رہے گا تو آیا یہ شریفانہ حرکت ہے؟ آیا یہ ایک فرمانبردار بیٹا کہلائے گا؟ کیا اس پر رب العالمین راضی ہوں گے؟
ایسے ہی اس کی بیوی اچانک سے گر جاتی ہے اور وہ گرنے کی وجہ سے چیختی چلاتی ہے۔
یہ صاحب آواز سن کر بے ساختہ آٹھ بیٹھتے ہیں پھر کہتے ہیں میں تو حالت نیند میں ہوں۔
اس حالت میں ان کا مکلف نہیں ،ان کی دیکھ بال میرے ذمہ نہیں کیونکہ میں سو رہا ہوں۔
تو صاحب جی ذرا بتائیں آپ کی بیوی پھر آپ کے ساتھ کیسے پیش آے گی؟
اٹھو گے یا حالت نیند میں ہی ہماری بھابھی سے اپنی پٹائی کرواؤ گے یا پھر ان کی طرف سے سخت احتجاج اور ناراضگی کا سامنا کرو گے۔
ان باتوں پر معترض غور وفکر کر لے تو سمجھ آ جائے گی کہ مکلف ہونے سے کیا مراد ہے۔
اب آتے ہیں دین وشریعت کی طرف!
سیدنا ابن عباس رضی الله عنہ بیان کرتے ہیں۔
أَعْتَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةً بِالعِشَاءِ، حَتَّى رَقَدَ النَّاسُ وَاسْتَيْقَظُوا، وَرَقَدُوا وَاسْتَيْقَظُوا، فَقَامَ عُمَرُ بْنُ الخَطَّابِ فَقَالَ: الصَّلاَةَ۔۔۔
کہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے ایک رات عشاء کی نماز میں دیر کی حتی کہ لوگ ( مسجد میں ہی ) سو گئے۔ پھر بیدار ہوئے پھر سو گئے، پھر بیدار ہوئے۔ آخر میں عمر بن خطاب رضی الله عنہ کھڑے ہوئے اور پکارا نماز
صحیح البخاری:(571)
اس حدیث پر امام بخاری نے یوں عنوان قائم کیا ہے۔
بَابُ النَّوْمِ قَبْلَ العِشَاءِ لِمَنْ غُلِبَ،
اس روایت سے معلوم ہوا جس پر نیند کا غلبہ ہو اس کے پاس نماز کے لئے ندا کرنا جائز ہے۔
یہی آواز سن کر نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم اپنے حجرہ مبارک سے باہر تشریف لائے تھے۔
سیدنا ابو قتادہ رضی الله عنہ کہتے ہیں:
سِرْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةً، فَقَالَ: بَعْضُ القَوْمِ: لَوْ عَرَّسْتَ بِنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: أَخَافُ أَنْ تَنَامُوا عَنِ الصَّلاَةِ قَالَ بِلاَلٌ: أَنَا أُوقِظُكُمْ، فَاضْطَجَعُوا، وَأَسْنَدَ بِلاَلٌ ظَهْرَهُ إِلَى رَاحِلَتِهِ، فَغَلَبَتْهُ عَيْنَاهُ فَنَامَ، فَاسْتَيْقَظَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَدْ طَلَعَ حَاجِبُ الشَّمْسِ، فَقَالَ: يَا بِلاَلُ، أَيْنَ مَا قُلْتَ؟ قَالَ: مَا أُلْقِيَتْ عَلَيَّ نَوْمَةٌ مِثْلُهَا قَطُّ، قَالَ: «إِنَّ اللَّهَ قَبَضَ أَرْوَاحَكُمْ حِينَ شَاءَ، وَرَدَّهَا عَلَيْكُمْ حِينَ شَاءَ، يَا بِلاَلُ، قُمْ فَأَذِّنْ بِالنَّاسِ بِالصَّلاَةِ فَتَوَضَّأَ، فَلَمَّا ارْتَفَعَتِ الشَّمْسُ وَابْيَاضَّتْ، قَامَ فَصَلَّى،
ہم (خیبر سے لوٹ کر) نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کے ساتھ رات میں سفر کر رہے تھے تو قوم کے بعض لوگوں نے کہا اے الله کے رسول صلی الله علیہ وسلم آپ اب پڑاؤ ڈال دیتے تو بہتر ہوتا۔ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے ڈر ہے کہ کہیں نماز کے وقت بھی تم سوے نہ رہو اس پر سیدنا بلال رضی الله عنہ نے کہا (آپ لوگ سو جائیں) میں آپ سب کو جگا دوں گا۔ چنانچہ سب لوگ لیٹ گئے۔ اور سیدنا بلال رضی الله عنہ نے بھی اپنی پیٹھ کجاوہ سے لگا لی۔ اور پھر ان پر بھی ان کی آنکھیں غالب آ گئیں اور وہ بھی سو گئے اور جب نبی کریم صلی الله علیہ وسلم بیدار ہوئے تو سورج کے اوپر کا حصہ نکل چکا تھا۔ آپ نے فرمایا بلال! تو نے کیا کہا تھا۔ وہ بولے آج جیسی نیند مجھے کبھی نہیں آئی نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ الله تعالی تمہاری ارواح کو جب چاہتا ہیں قبض کر لیتے ہیں اور جس وقت چاہتے ہیں واپس کر دیتے ہیں۔ اے بلال! اٹھیے اور لوگوں کے نماز ادا کرنے کے لئے اذان کہہ ۔ پھر آپ صلی الله علیہ وسلم نے وضو کیا اور جب سورج بلند ہو کر روشن ہو گیا تو آپ صلی الله علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور نماز پڑھائی۔ صحیح البخاری:(595)
یہ حدیث تفصیل کے ساتھ صحیح مسلم:(681) میں بھی ہے اس سے مزید واضح ہوتا ہے کہ پہلے فجر کی سنتیں پڑھنی گئیں پھر فرض نماز ادا کی گئی۔
سیدنا عمران بن حصین رضی الله عنہ سے مروی روایت پہلی سے زیادہ واضح ہے بیچ اس مسئلہ کے ملاحظہ کریں:
عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ نَبِيِّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَسِيرٍ لَهُ، فَأَدْلَجْنَا لَيْلَتَنَا، حَتَّى إِذَا كَانَ فِي وَجْهِ الصُّبْحِ عَرَّسْنَا، فَغَلَبَتْنَا أَعْيُنُنَا حَتَّى بَزَغَتِ الشَّمْسُ، قَالَ: فَكَانَ أَوَّلَ مَنِ اسْتَيْقَظَ مِنَّا أَبُو بَكْرٍ، وَكُنَّا لَا نُوقِظُ نَبِيَّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ مَنَامِهِ إِذَا نَامَ حَتَّى يَسْتَيْقِظَ، ثُمَّ اسْتَيْقَظَ عُمَرُ، فَقَامَ عِنْدَ نَبِيِّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَعَلَ يُكَبِّرُ، وَيَرْفَعُ صَوْتَهُ بِالتَّكْبِيرِ حَتَّى اسْتَيْقَظَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا رَفَعَ رَأْسَهُ، وَرَأَى الشَّمْسَ قَدْ بَزَغَتْ، قَالَ: ارْتَحِلُوا۔۔۔
اس روایت کے ان الفاظ پر غور کریں۔
جب نبی کریم صلی الله علیہ سو جاتے تو ہم آپ صلی الله علیہ کو جگایا نہیں کرتے تھے حتی کہ آپ خود بیدار ہو جاتے پھر سیدنا عمر رضی الله عنہ بیدار ہؤے پھر وہ الله کے نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کے قریب کھڑے ہو گئے اور الله اکبر پکارنے لگے اور (اس)تکبیر میں آواز اونچی کرنے لگے حتی کہ رسول الله صلی الله علیہ بھی نیند سے بیدار ہو گئےجب آپ نے سر اٹھایا اور دیکھا کہ سورج چمک رہا ہےتو نبی کریم صلی الله علیہ وسلم فرمایا: یہاں سے آگے چلو ۔۔۔ صحیح مسلم:(682)
ﺑﺎﺏ ﻗﻀﺎء اﻟﺼﻼﺓ اﻟﻔﺎﺋﺘﺔ، ﻭاﺳﺘﺤﺒﺎﺏ ﺗﻌﺠﻴﻞ ﻗﻀﺎﺋﻬﺎ،
یہ احادیث مبارکہ اس مسئلہ پر بالکل واضح ہیں کہ نمازی کو نماز کے لئے جگانا درست عمل ہے اور ایسا خود رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے ساتھ بھی ہوا کہ انہیں سیدنا عمر فاروق رضی الله عنہ نے جگایا اس پر نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے کوئی نوٹس نہیں لیا بلکہ سکوت فرمایا جو اس عمل کے صحیح ہونے پر دلالت کرتا ہے۔
اور سیدنا ابو قتادہ رضی الله عنہ سے مروی روایت سے معلوم ہوا کہ سونے والا کا نماز کے ادا کرنے کے لئے جاگنے کے لئے کسی کی زمہ داری لگانا یا الرام کا اہتمام کرنا ضروری ہے را کہ فرض نماز ادا ہونے سے رہ نہ جائے یا اول وقت سے لیٹ نہ ہو جائے۔
اسی طرح معترض کو معلوم ہونا چاہیے ہے کہ اذان کا مقصد ہی نمازی کو اطلاع دینا ہے کہ بھئ اب آٹھ جاؤ نماز کا وقت ہو گیا ہے۔
یاد رکھیں جو نیند انسان پر لینا لازم ہے اس نیند کے وقت میں کوئی نماز اور عبادت اس پر فرض نہیں ہے یعنی عشاء سے اذان فجر تک کے وقت میں اس کے علاوہ جب بھی نماز کا وقت ہو گا اسے نماز کے لئے جگایا جائے گا کہ یہی خیر خواہی ہے اور یہی کتاب وسنت سے ہمیں راہنمائی ملتی ہے۔
اب مکلف کا مطلب ومعنی سمجھنا ہے تو سیدنا ابو قتادہ رضی الله عنہ والی حدیث اور دیگر احادیث سے سمجھ لیں۔
اسی طرح اگر کسی شخص کو کوئی نیند سے بیدار نہیں کرتا اور خود بھی آنکھ نہیں کھلتی ہے تو جب بھی یہ سو کر اٹھے گا نماز پڑھے گا اس پر کوئی گناہ نہیں ہے،مگر اسے بنیاد بنا کر غلط فہمی اور غلط مفہوم بیان کرنا سراسر شرعی حکم وتعلیم کا استہزاء ہے۔هذا ما عندي والله أعلم بالصواب
فضیلۃ العالم ابو انس طیبی حفظہ اللہ




