سوال (974)
کیا وتر پڑھنے کے بعد تہجد پڑھ سکتے ہیں؟
جواب
جی پڑھ سکتے ہیں ۔ ایک روایت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے وتر کے بعد بیٹھ کر دو رکعت پڑھنا ثابت ہے ۔
فضیلۃ الباحث واجد اقبال حفظہ اللہ
وتر کو رات کی آخری نماز بناؤ ، اگر کوئی شخص رات کو اٹھنے پر قادر نہیں تو وہ وتر پڑھ کر سوئے ، اگر اللہ اسے توفیق دے دے اور وہ جاگ جائے تو جو میسر ہو نماز ادا کر لے۔
اور جس آدمی کی عادت ہے بحمد للہ رات کی نماز ادا کرنا وہ اپنی رات کی دو دو رکعتوں کی نماز کو ایک رکعت سے وتر بنائے ۔جزاکم اللہ خیرا
فضیلۃ الباحث اسامہ شوکت حفظہ اللہ
تراویح گیارہ رکعات امام کے ساتھ مکمل کرنا چاہیے یا وتر سحری کے وقت پڑھنا زیادہ بہتر ہے ؟
فضیلۃ الباحث مرتضی ساجد حفظہ اللہ
امام کے ساتھ پڑھے ، اس حدیث کے ظاہر سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ وتر امام کے ساتھ پڑھے ، جس پر اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ساری رات کے قیام پر ثواب فرمایا ہے۔ “قال الترمذی ھذا حدیث حسن صحیح”
امام احمد رحمہ اللہ بھی امام کے ساتھ تراویح پڑھتے اور وتر پڑھ کر جاتے تھے ۔ [سوالات الاثرم]
فضیلۃ الباحث اسامہ شوکت حفظہ اللہ
سائل: اگر کوئی شخص تراویح کے ساتھ وتر پڑھ لے تو بعد میں تہجد پڑھ سکتا ہیں اگر پڑھ سکتا ہیں تو کیا وتر دوبارہ پڑھنے پڑے گا کیونکہ آخری نماز وتر ہے؟
جواب: اگر وتر پہلے ہی ساتھ پڑھ لیے ہیں تو پھر رات میں مزید نماز پڑھنے کی تین صورتیں ہیں: ایک طریقہ یہ ہے کہ جب دل چاہے دو دو رکعت کر کے نماز پڑھ لے، یہی کافی ہے۔ دوبارہ وتر پڑھنے کی ضرورت نہیں۔
دوسرا طریقہ یہ ہے کہ پہلے ایک رکعت پڑھ کر سابقہ وتر کو شفع (یعنی جفت) کر دے، گویا اسے توڑ دے، پھر دو دو رکعت کر کے نماز پڑھتا رہے اور آخر میں دوبارہ ایک وتر پڑھ لے۔
تیسرا طریقہ یہ ہے کہ ایک رکعت پڑھ کر پہلے وتر کو شفع کر دے، اس کے بعد دو دو رکعت کر کے نماز پڑھتا رہے، اور اسی پر ختم کر دے، مزید وتر نہ پڑھے۔ یہ تینوں صورتیں بیان کی جاتی ہیں۔




