سوال (5517)

شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ نے فرمایا: “نماز میں قرآن پڑھتے وقت اور واجب اذکار (تکبیر، تسبیح، تحمید، تشہد وغیرہ) پڑھتے وقت ہونٹوں اور زبان کو حرکت دینا ضروری ہے۔ کیونکہ قول صرف اسی کو کہا جاتا ہے جو زبان سے ادا ہو، اور ادائیگی ہونٹوں و زبان کی حرکت کے بغیر نہیں ہوتی۔” [لقاء الباب المفتوح: 20]
شیخ ابن باز رحمہ اللہ: “قرآن کو بغیر ہونٹ ہلائے پڑھنا تلاوت شمار نہیں ہوتا۔ اور قرآن کی تلاوت کا ثواب اسی کو ملے گا جو زبان سے ادا کرے۔”[ الفتاویٰ: 8/363] اس کی وضاحت کریں؟

جواب

جی ہاں، امام بیہقی و غیرہ نے قراءت کی تعریف یہی کی ہے کہ آپ کی زبان اور ہونٹ حرکت میں رہیں۔ یہ جو کچھ لوگ نیت باندھ کر چپ چاپ ہو جاتے ہیں، نہ ہونٹ ہلتے ہیں نہ زبان، حتیٰ کہ آنکھیں بھی بند کر لیتے ہیں، تو یہ کوئی طریقہ نہیں ہے۔ تصور کے ذریعے اور خیالات سے نماز پڑھنا… سورۃ الفاتحہ یا جو بھی قراءت مطلوب ہے، وہ ہونٹوں اور زبان کی حرکت کے ساتھ ہی ادا ہوگی، اگرچہ آواز مخفی ہو۔
تو یہی وہ طریقہ ہے جو مطلوب ہے، اور ایسے ہی نماز پڑھی جاتی تھی، اور ایسے ہی ہمیں پڑھنے کا حکم دیا گیا ہے:

“وَلَا تَجْهَرْ بِصَلَاتِكَ وَلَا تُخَافِتْ بِهَا وَابْتَغِ بَيْنَ ذَٰلِكَ سَبِيلًا” (الاسراء: 110)۔

اور اسی طرح یہ جو ذکر ہے:

“وَإِذَا قُرِئَ الْقُرْآنُ فَاسْتَمِعُوا لَهُ وَأَنْصِتُوا لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ” (الاعراف: 204)۔

اس میں بھی “قول” کا ذکر آیا ہے، اور “قول” کا اطلاق زبان اور ہونٹ کی حرکت پر ہوتا ہے۔ تو قراءت کا اطلاق بھی، اور قول کا اطلاق بھی، یہی ثابت کرتا ہے کہ قراءت زبان سے ہونی چاہیے۔
صرف خیالات کے ذریعے سورۃ الفاتحہ نہیں پڑھی جاتی، ورنہ احناف سے اختلاف کیا رہتا؟ تصور و خیال تو ان کے پاس بھی ہوتا ہے۔
تو یہی وہ چیز ہے جس کی وضاحت اس فتوے میں مشائخ رحمہم اللہ اجمعین نے کی ہے۔
حدیث میں بھی آتا ہے:

“مَا تَحَرَّكَتْ بِهِ شَفَتَاهُ”

جب تک بندے کے ہونٹ میری وجہ سے، میرے ذکر کی وجہ سے حرکت میں رہتے ہیں، تب تک وہ ذکر میں شمار ہوتا ہے۔
لہٰذا ذکر اور قراءت زبان و ہونٹ کی حرکت سے ہونی چاہیے، صرف دل کے خیال سے نہیں۔

فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ