سوال (375)
کیا “اللہم صل علی محمد و آل محمد” کے الفاظ درود کے ثابت ہیں؟
جواب
شیعہ لوگ اللھم صل علی محمد و آل محمد اس طرح پڑھتے ہیں۔ ہم جو حدیث میں الفاظ پاتے ہیں وہ “و علی آل محمد” شاید بیچ میں علی کا مسئلہ ہے، یہ معلوم نہیں ہے کہ وہ کیا مفھوم پہناتے ہیں، اگر آل مراد ہے تو آل پہ تو درود ثابت ہے، ہمارے بعض علماء نے اس طرف اشارہ کیا ہے کہ جیسے وارد ہوا ہے، ویسے پڑھنا چاہیے، یہ الفاظ شاید بغیر علی کے وارد نہیں ہوئے ہیں۔ باقی احادیث کے اندر جو الفاظ وارد ہوئے ہیں، اس کے لیے مندرجہ ذیل حدیث ملاحظہ ہو۔
سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
“قُلْنَا: أَوْ قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَمَرْتَنَا أَنْ نُصَلِّيَ عَلَيْكَ، وَأَنْ نُسَلِّمَ عَلَيْكَ، فَأَمَّا السَّلَامُ فَقَدْ عَرَفْنَاهُ، فَكَيْفَ نُصَلِّي عَلَيْكَ ؟ قَالَ: قُولُوا: اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ، وَآلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ، وَبَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ، وَآلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ”.[سنن ابي داؤد: 976]
’’ہم نے کہا یا دیگر صحابہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ نے ہمیں حکم دیا ہے کہ ہم آپ پر درود اور سلام بھیجیں۔ سلام بھیجنا تو ہم نے جان لیا ہے، تو درود کیسے پڑھیں؟ آپ نے فرمایا:’’ کہا کرو!
“اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ ۔۔۔ الخ”
اے اللہ! محمد اور آل محمد پر اپنی رحمتیں نازل فرما، جیسے کہ تو نے ابراہیم پر رحمتیں نازل فرمائیں اور محمد اور آل محمد پر اپنی برکتیں نازل فرما جیسے کہ تو نے آل ابراہیم پر اپنی برکتیں نازل فرمائیں۔ بے شک تو تعریف کیا ہوا، بڑی شان والا ہے‘‘۔
فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ
فضیلۃ الباحث کامران الہیٰ ظہیر حفظہ اللہ
سوال: قرآن و سنت میں درود کے مختصر ترین صحیح ثابت الفاظ کیا ہیں؟
جواب: جلاء الافہام ابن القیم دیکھ لیں، کم سے کم لفظ مرفوع و موقوف “صلی اللہ علیہ وسلم” وارد ہوا ہے، “اللهم صل علي محمد” بھی مل سکتا ہے، “اللهم صل و سلم علي محمد” بھی مل سکتا ہے۔
فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ
درود کے مختلف الفاظ ثابت ہیں۔
صلی اللہ علیہ وسلم، یہ درود کے سب سے مختصر مسنون الفاظ ہیں۔
قَالَ: مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مسلم: 411
ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب
فضیلۃ الباحث ابو زرعہ احمد بن احتشام حفظہ اللہ




