سوال 7022
ایک خاتون جو کہ کلالہ ہیں ، ابھی حیات ہیں، انہوں نے اپنی زندگی میں ہی اپنا مکان اور زیور وغیرہ اپنی لے پالک بیٹی (ان کی بھانجی) کے نام کر دیے ہیں اور اپنے بہن بھائیوں سے بھی منظوری لے لی ہے جو کہ سب نے نہیں دی تو کیا ان کو اپنی زندگی میں اس طرح فیصلہ کرنے کا اختیار ہے؟
جواب
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ
مشائخ وضاحت فرمائیں گے، البتہ ہماری دانش میں، ہماری محدود معلومات کے مطابق سب راضی نہیں ہو رہے تو اسے اس طرح کا فیصلہ کرنے کا اختیار حاصل نہیں ہے اور نہ ان پہ جبر کر سکتی ہے۔
فضیلۃ الشیخ عبدالوکیل ناصر حفظہ اللہ
اگر کسی شخص کی حالت ایسی ہو کہ وہ مرضِ موت کے قریب ہو اور اسے احساس ہو کہ وقتِ اجل قریب ہے، تو ایسی صورت میں وہ صرف اپنے مال کی ثلث کے بارے میں وصیت کر سکتی ہے، اس سے زیادہ نہیں۔ اگر اس کی وصیت کے نتیجے میں کوئی وارث محروم ہو رہا ہو، تو یہ درست نہیں اور اس پر گناہ بھی آ سکتا ہے۔
البتہ، اگر وہ صحت مند ہے تو وہ ہبہ کر سکتی ہے، لیکن اگر اس کا تمام مال ہی کسی ایک شخص کے لیے ہے تو کل مال دینے کی اجازت نہیں۔ کسی کو حصہ دینے کے لیے وصیت کرتے وقت یہ دھیان رکھنا ضروری ہے کہ ورثا کا حق پامال نہ ہو۔
جو کچھ اس کی زندگی میں کیا جائے، وہ صرف اس کی اپنی ملکیت اور اختیار میں ہے، اور اس کے لیے ورثاء کی اجازت لینا لازم نہیں، مگر ایسی وصیت جو ورثاء کو محروم کرے، وہ نا مکمل اور نافذ نہیں ہوگی۔
واللہ تعالیٰ اعلم۔
فضیلۃ الشیخ محمد علی حفظہ اللہ
سائل: معلوم ہوا ہے کہ کافی پہلے تندرستی کی حالت میں ہی لے پالک بیٹی کو سب کچھ دے دیا نام کر دیا؟
جواب: حالتِ صحت میں سارا دے دیا تھا لیکن اس کو پتا نہیں تھا۔ اس کو فیصلہ واپس لینا چاہیے۔ سارا اس بیٹی کے نام نہیں کرنا چاہیے۔ درست بات یہی معلوم ہوتی ہے، باقی اللہ بہتر جانتا ہے۔
فضیلۃ الشیخ محمد علی حفظہ اللہ




