سوال (3057)
کسی کی طرف سے روضہ رسول پر سلام پہنچانے کی کیا شرعی حیثیت ہے؟
جواب
درود و سلام پہچانا رب العالمین کی طرف سے فرشتوں کے ذمے ہے، اس لیے جو مسلمان جہاں رہ کر بھی درود و سلام کا اہتمام کرے گا وہ فرشتے پہنچا دیں گے۔
هذا ما عندي والله أعلم بالصواب
فضیلۃ العالم ابو انس طیبی حفظہ اللہ
روضہ رسول پر پہنچ کر سلام کرنا اور چیز ہے، سلام بھجوانا الگ چیز ہے، یہ اہل بدعت کا طریقہ ہے، اس پر حیاۃ النبی اور سماع موتی کا عقیدہ ہے، اس لیے خود جا کر ہزار مرتبہ سلام کریں، اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔
فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ
یہ چیز کسی کے اختیار میں نہیں ہے، درود و سلام کے لیے درود شریف کے الفاظ سکھائے گئے ہیں، وہ پڑھیں، جہاں ہیں، اللہ کی طرف سے ڈیوٹی پر معمور فرشتے اپنا کام کرتے ہیں، زیارت روضہ پر جانے والا ایسا فعل کرنے سے گریز کرے ویسے بھی ہمارے ہاں ویڈیو کال پر سب کے سلام دینے کے لیے حاضر شخص اپنا سلام بھول جاتا ہے، اسی لیے کہا جاتا ہے کہ بدعت بانجھ نہیں ہوتی ہے، لہذا رائز اپنا کام کرے اور جو جہاں ہے، اسے دردو شریف پڑھنے کی تلقین کرے اور فرشتوں کو اپنا کام کرنے دے۔
فضیلۃ العالم اکرام اللہ واحدی حفظہ اللہ
بلکہ شیخ محمد بن عبد الوہاب رحمہ اللہ نے تو اصلا قبر رسول پر جا کر سلام کرنے کو غیر مستحسن قرار دیا کہ خصوصا اس دور میں جہالت کی وجہ سے اس سے خرابیاں پیدا ہوتی ہیں ، اور وہ فرماتے ہیں کہ نبی علیہ السلام کو دور سے یا قبر پر جا کر سلام ایک ہی طرح ہے
کہ دو کو رسول اللہ تک فرشتوں کے ذریعے سے پہنچایا جاتا ہے، بلکہ کسی کو کہنا کہ سلام کرنا میں یہ قباحت بھی جو عموما لوگوں کے ہاں پائی جاتی ہے کہ رسول اللہ از خود سلام سن کر اس کا جواب دیتے ہیں، جیسے زندہ ادمی کو جو اس دنیا میں ہے سلام کیا جاتا ہے۔
فضیلۃ الباحث اسامہ شوکت حفظہ اللہ