سوال (6417)
کسی معروف شخصیت کی قبر کا مزار بنانا کیسا ہے؟
قبر کو پکا کرنا حدیث کی روشنی میں بیان کیجئے؟
جواب
معروف ہو یا غیر معروف ہو، دین اسلام میں قبر کو پختہ کرنا منع ہے۔
“نهي رسول الله صلى الله عليه وسلم ان يجصص القبر”
قبر کو چنا گچ، اونچی اور پکی کرنے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے روکا ہے، اور قبر کے اوپر مزار اور گنبد سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے روکا ہے۔
“نهي رسول الله صلى الله عليه وسلم ان يبني عليه”
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قبر پر کچھ بنانے سے منع کیا ہے، یہ ہندو ازم، یہودیت اور اس کے علاؤہ اہل شیعت کی طرف آیا ہوا ہے، لوگ اس کو نہیں سمجھتے ہیں، یہ مزارات اور قبے اسلام میں نہیں ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا روزہ چھٹی صدی میں بنا ہے، اس پر بات اس لیے نہیں کی جا سکتی ہے، اس پر بات کرنے سے فتنہ پیدا ہو سکتا ہے، جیسا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارادہ کیا کہ میں بیت اللہ کو ازسرنو تعمیر کراؤں، پہلے اس کو گراؤں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چھوڑ دیا، کہیں فتنہ برپا نہ ہو، اس کو دلیل بنانا فتنہ برپا کرنے والی بات ہے، اس لیے اس کو دلیل نہیں بنانا چاہیے۔
فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ




