سوال (5411)
ایک 13 سال کا بچہ نارمل حالت میں فوت ہو گیا۔ اسے مقامی قبرستان میں دفن کیا گیا، لیکن جب قبر کھودنے والوں نے ایک پرانی قبر کھودی (جو ایک خاتون کی تھی اور 9 سال پرانی تھی)، تو اس میں بچے کو دفن کر دیا گیا۔ قبر کھودنے والے کا کہنا ہے کہ وہ خاتون کی میت اور کفن بالکل محفوظ حالت میں تھے۔ اس پرانی قبر کے اوپر ہی بچے کی قبر بنائی گئی۔ اب اس خاتون کے اہلِ خانہ شدید ناراض ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ہماری والدہ کی قبر میں کسی اور کو دفن کیوں کیا گیا؟ وہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ بچے کی میت کو قبر سے نکال کر کہیں اور دفن کیا جائے، کیونکہ ان کی والدہ کی میت اب بھی صحیح حالت میں ہے۔ متوفیہ خاتون کا ایک بیٹا دبئی میں ہے۔ وہ کہہ رہا ہے کہ اگر ہمارے آنے سے پہلے بچے کو وہاں سے نہ نکالا گیا، تو میں خود آ کر قبر کھدواؤں گا۔ اس وقت علاقے میں کافی سخت کشیدگی ہے۔ براہ کرم رہنمائی فرمائیں کہ شریعت اس بارے میں کیا کہتی ہے؟ کیا بچے کی میت کو نکال کر دوسری جگہ دفن کرنا درست ہوگا؟
جواب
سوال یہ ہے کہ ایک قبر کسی کی والدہ کی تھی جو 9 سال پہلے فوت ہوئی اس کے اوپر غلط فہمی سے کسی اور بچے کے لئے قبر کھودی گئی تو اس عورت کی لاش اور کفن بالکل صحیح سلامت تھا مگر اس پہ بچے کی قبر بنا دی گئی اب اس عورت کے بیٹے لڑائی کر رہے ہیں کہ اپنے لڑکے کی میت کو کہیں اور لے جائیں۔
اس سلسلے میں پہلی بات آپ نے کہی کہ انکی ماں کی لاش اور کفن بالکل صحیح سلامت تھا تو یہ ہونا ممکن تو نہیں لیکن ننانوے فیصد یہ جھوٹ اور پروپیگنڈا ہوتا ہے کیونکہ دوسرے کو یہ دیکھنے نہیں دیں گے اور خود جو مرضی کہتے رہیں۔
دوسری بات یہ بتانی ہے کہ کسی وجہ سے ایک قبر میں دو میت کا دفن کرنا بھی جائز ہو سکتا ہے اور ایک قبر کے اوپر دوسری قبر غلط فہمی میں بنا لینا اس میں بھی کوئی قباحت نہیں ہے اور ایک قبر سے میت کو نکال کر کسی دوسری جگہ دفن کرنا بھی کسی مجبوری کے تحت کیا جا سکتا ہے دلائل مندرجہ ذیل ہیں۔
بخاری کی حدیث ہے۔
عن جابر رضي الله عنه، قال:” دفن مع ابي رجل، فلم تطب نفسي حتى اخرجته، فجعلته في قبر على حدة”.
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میرے باپ کے ساتھ ایک ہی قبر میں ایک اور صحابی (جابر رضی اللہ عنہ کے چچا) دفن تھے۔ لیکن میرا دل اس پر راضی نہیں ہو رہا تھا۔ اس لیے میں نے ان کی لاش نکال کر دوسری قبر میں دفن کر دی۔
اسی طرح مسند احمد میں ہے کہ سیدنا عمرو بن جموح رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آکر عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا خیال ہے اگر میں اللہ کی راہ میں لڑتے ہوئے شہید ہو جاؤں تو کیا میں جنت میں اپنی اس ٹانگ سے صحیح طور پر چل سکوں گا؟ دراصل وہ ایک ٹانگ سے لنگڑے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی بالکل۔۔ پھر وہ،ان کا بھتیجا سیدنا عبداللہ بن عمرو بن حرام رضی اللہ عنہ اور ان کا ایک غلام یہ تینوں غروۂ احد میں شہید ہو گئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے پاس سے گزرے اور فرمایا: میں گویا دیکھ رہا ہوں کہ تو اپنی اس ٹانگ سے صحیح طور پر جنت میں چل رہا ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان تینوں کو ایک ہی قبر میں دفن کرنے کا حکم دیا۔
اسی طرح بخاری میں ہے۔
قال خارجة بن زيد رأيتني ونحن شبان فى زمان عثمان رضى الله عنه وان أشد ناوثبة الذى يثب قبر عثمان بن مظعون حتي يجاوزه وقال عثمان بن حكيم أخذ. بيدي خارجة فاجلسني على قبر واخبرني عن عمه يزيد بن ثابت قال إنما كره ذلك لمن أحدث عليه وقال نافع كان ابن عمر يجلس على القبور،
’’خارج بن زید کا بیان ہے کہ میں نے دیکھا کہ ہم لوگ عثمان رضی اللہ عنہ کے زمانے میں جوان تھے اور ہم سب عثمان بن مظلوم کی قبر پر کودا کرتے تھے، حتی کہ اس سے بھی تجاوز کر جاتے تھے اور عثمان بن حکیم نے کہا کہ خارجہ نے میر اہاتھ پکڑ کر مجھے قبر پر بٹھایا اور اپنے چچا یزید بن ثابت سے خبر دی کہ یہ قبر پر بیٹھنے کو جو ناپسند کرتے تھے، اس شخص کے لیے جو اس پر حدث کرے، اور نافع کا بیان ہے، کہ ابن عمر رضی اللہ عنہ قبر پر بیٹھا کرتے تھے۔‘‘
پس میرے علم کے مطابق مذکورہ صورت میں اگر عورت والے مان جاتے ہیں تو دونوں قبریں ویسے ہی رکھی جا سکتی ہیں اور اگر چاہیں تو اوپر والی کو منتقل بھی کیا جا سکتا ہے۔ واللہ اعلم
فضیلۃ العالم ارشد حفظہ اللہ




