سوال (2728)
کیا کسی صحابی کی زندگی کے کسی واقعے پر کارٹون بنانا اس میں صحابی کی جو چہرہ ہے، وہ نہ دکھایا جائے گا، یعنی اس پر روشنی وغیرہ ڈال دی جائے تو اس طرح کا کوئی پروجیکٹ تیار کرنا یا کسی ایسے واقعے پر جیسے ابھی کچھ لوگ مجھے میسج کر رہے تھے تو انہوں نے حضرت عثمان رضی اللہ تعالی عنہ کے کنواں خریدنے کا جو واقعہ ہے اس پر کارٹون بنانے ہیں تو کیا ایسا کرنا جائز ہے؟
جواب
کارٹون بنانا خود متنازعہ مسئلہ ہے، تصویر سازی کی وجہ سے چہ جائیکہ اسے مقدس ہستیوں کے لیے استعمال کیا جائے، تعظیم و تکریم صحابہ شرعاً مطلوب ہے اور ایمان کا حصہ ہے اور ان کے کارٹون بنانا استخفاف میں آتا ہے، اگرچہ ہماری نیت استخفاف کی نہ ہو،
اسی طرح سدِّ ذریعہ کے طور پر بھی یہ درست نہیں کیونکہ آج آپ احتیاط کے ساتھ کارٹون بنائیں گے، چہرہ بلر کر کے یا چہرہ نہ دکھا کر لیکن بعد والوں کے لئے کھلا راستہ چھوڑ جائیں گے، اوپر مذکور باتیں اس صورت میں ہیں کہ جب کارٹون بنانے کے جواز کا فتوی لیا جائے۔
لیکن تصویر سازی کی حرمت کی وجہ سے کارٹون بنانا ہی جائز نہیں جیسا کہ یہ بھی کبار اھل علم کا موقف ہے۔
فضیلۃ العالم فہد انصاری حفظہ اللہ
اجتناب بہتر ہے، کیا صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم کی ہستیاں ان کاموں کے لیے رہ گئیں ہیں؟
فضیلۃ الباحث ابو دحیم محمد رضوان ناصر حفظہ اللہ
رب العالمین کی مخلوق میں سب سے افضل لوگ انبیاء کرام علیھم السلام کی مبارک جماعت ہیں تو ان کی سیرت طیبہ قرآن وحدیث میں محفوظ ہے۔ ان کے بعد سب سے عظمت وشان والے لوگ صحابہ کرام رضوان الله تعالی علیھم اجمعین ہیں ان کی مثالی سیرت و کردار بھی قرآن وحدیث کتب سیرت و معتبر کتب تاریخ میں موجود ومحفوظ ہے۔ اردو میں بھی، عربی میں بھی اور دیگر کئی زبانوں میں۔
انبیاء کرام علیھم السلام کی عظمت وعصمت کا مسئلہ ہو یا صحابہ کرام رضوان الله تعالی علیھم اجمعین کی عظمت وعصمت کا مسئلہ دونوں ہی اس مقام پر فائز ہیں کی ان کی توہین کا مرتکب واجب القتل ہے، رہا ان کی زندگی وسیرت کو کارٹون کی شکل میں منظر عام پر لانا تو آپ دیکھیں کہ آپ کن ہستیوں کے بارے میں کیا کہہ رہے ہیں اور پوچھ رہے ہیں اور کیا بنانے کا ارادہ رکھتے ہیں، صحابہ کرام رضوان الله تعالی علیھم اجمعین کی زندگی پر یا کسی زندگی کے پہلو پر فلم بنانا حرام ہے اور یہ صریح توہین اور مجرمانہ فعل ہے۔ اور مجھول چیز کو کردار دینا اور نہایت غیر اخلاقی طریقہ ہے۔ ان کی زندگی پر کردار نہ کارٹون کی صورت میں پیش کرنا جائز ہے نہ کسی شخص کو کردار ادا کرنے کو کہنا درست اور جائز ہے۔ جس نے بھی ان مبارک ہستیوں کی زندگیوں سے کچھ سیکھنا اور سمجھنا ہے تو براہ راست قرآن وحدیث سیرت طیبہ کا مطالعہ کریں اور لوگوں کو قرآن وحدیث اور صحابہ کرام انبیاء کرام علیھم السلام کی سیرت طیبہ پر لکھی گئیں معتبر کتب ہیں انہیں پڑھنے کی ترغیب و پیغام دیں یا خود ان کی سیرت کو اپنے الفاظ میں ریکارڈ کر کے نشر کریں اور انبیاء کرام علیھم السلام اور صحابہ کرام رضوان الله تعالی علیھم اجمعین کی عظمت وعصمت کا خیال رکھیں اور وہ کام ہرگز نہیں کریں جس سے ان کی توہین لازم آتی ہو۔
هذا ما عندي والله أعلم بالصواب
فضیلۃ العالم ابو انس طیبی حفظہ اللہ