سوال (1856)

نماز قصر کتنے کلومیٹرس کے بعد کر سکتے ہیں، کیا سنتیں پڑھنی ہونگی یا ان کی رخصت ہے؟

جواب

سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تین میل یا تین فرسخ کا سفر کرتے تو نماز قصر فرماتے (روایت میں سفر کی تعیین کے متعلق تردد ایک راوی شعبہ کو ہوا ہے)
[صحیح مسلم: حدیث نمبر 691]
ایک فرسخ تین میل کا ہوتا ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ مسافت اگر نو میل ہو تو اپنے شہر یا گاؤں کی حد سے نکل کر نماز قصر کی جا سکتی ہے اور نو میل کلومیٹر کے لحاظ سے تقریبا بائیس یا تئیس کلو میٹر بنتے ہیں، اگر کسی نے اپنے شہر سے تئیس کلومیٹر یا اس سے زیادہ سفر کرنا ہو تو وہ نماز قصر کر سکتا ہے، دوسری بات جب فرض نماز آدھی ہوگئی ہے تو سنتوں کی رخصت تو بالاولی ہو گئی تو نماز سے پہلے اور بعد والی رکعات بھی رخصت میں شامل ہیں، البتہ نماز فجر سے پہلے والی دو رکعات اور وتر رخصت میں شامل نہیں ہیں۔
ھذا ماعندی واللہ اعلم بالصواب

فضیلۃ العالم ڈاکٹر ثناء اللہ فاروقی حفظہ اللہ

یہاں ایک چیز کا اضافہ کرلیں کہ یہاں میل سے مراد حجازی میل ہیں ، نہ انگریزی میل ہیں، حجازی میل جو کہ سوا دو کلومیٹرس کا ہوتا ہے۔ 23 کلو میٹرس بنتا ہے۔

فضیلۃ الشیخ عبد الرزاق زاہد حفظہ اللہ

سوال: نماز قصر کیلیے کتنی مسافت مقرر ہے، یعنی کتنے سفر پر قصر ہو سکتی ہے؟
جواب: نمازِ قصر کے لیے سفر کی مسافت میں میل کے تعین میں اہلِ علم کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے۔
کسی نے تین فرسخ یا تین فراسخ کا قول اختیار کیا، جسے بعض کے نزدیک نو میل کہا جاتا ہے۔
کچھ اہلِ علم نے یوم و لیلہ یعنی ایک دن اور ایک رات کے سفر کو معیار بنایا،
کچھ نے اڑتالیس میل کو معتبر سمجھا،
اور بعض نے دورِ جدید کے حالات کو دیکھتے ہوئے تقریباً چوبیس کلومیٹر کی رائے دی۔
یہ تمام اقوال اپنی جگہ قابلِ احترام ہیں، کیونکہ یہ سب اہلِ علم کی آراء ہیں۔
البتہ راجح بات یہی معلوم ہوتی ہے کہ علاقائی عرف کے اعتبار سے جسے سفر کہا جائے، وہی نمازِ قصر کے لیے معتبر ہوگا۔
مثلاً کراچی ایک بہت بڑا شہر ہے؛ یہاں ڈیڑھ دو گھنٹے گاڑی چلانے کے باوجود شہر ختم نہیں ہوتا، لیکن عرف میں کوئی بھی اسے سفر نہیں کہتا۔ لوگ روزانہ ٹاور، گلشنِ حدید یا دیگر علاقوں تک نوکری کے لیے جاتے ہیں اور واپس آ جاتے ہیں، مگر اسے سفر نہیں سمجھا جاتا۔
عرف میں جب کہا جاتا ہے کہ آدمی شہر یا علاقے کی حد سے باہر نکل جائے، تب اسے سفر کہا جاتا ہے۔ چنانچہ کم از کم شہر یا ضلع کی حدود کراس کرنا ہی وہ حد ہے جس کے بعد نماز قصر کا جواز پیدا ہوتا ہے۔
اسی بنیاد پر ہر علاقے کو اپنے عرف کے مطابق دیکھنا چاہیے اور اسی کے مطابق قصر کا حکم سمجھنا چاہیے۔

فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ