سوال (6617)
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
شیخ صاحب سوال ہے کہ اگر کوئی شخص ولیمہ نہ کرے تو کیا اس کا نکاح ہو جائے گا یا اگر وہ گھر میں کوئی چیز بنا کر لوگوں میں بانٹ دے تو کیا ایسے بھی اس کا ولیمہ ہو جائے گا؟
جواب
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
نکاح تو درست ہے اگر شرائط کے مطابق ہوا۔ ولیمہ مسنون اور تاکیدی حکم ہے، اسے اختیار کرنا چاہیے۔ اگر اس نے انتہائی مختصر کیا، جیسے کہ ذکر کیا، کچھ پکایا اور بانٹ دیا ولیمے کی نیت سے، تو ولیمہ ہو جائے گا۔
لیکن المعروف عرفا، کالمشروط شرطاً تک ہمارا جو عرف ہے، نا یہ اتنا مضبوط ہے، جیسے کہ شرط تو جس طرح شرط کا اعتبار ہوتا ہے، عرف کا بھی اعتبار ہوتا ہے۔ لہذا بے مقصد کا عرف سے، علاقائی عادات سے خروج نہیں کرنا چاہیے کہ نہیں۔ سارے کام دنیا کے بھی تو کرتے ہیں۔ اگر ولیمہ جو مسنون ہے، اسے اختیار کیوں نہیں کرتے؟ علی وجہ المشروع جیسے کہ وہ مشروع ہے، ویسے ہی کرنا چاہیے۔ باقی ہو گیا جو کچھ ہونا تھا، ہم یہ نہیں کہہ رہے، لیکن ایک چیز شایان شان طریقے سے ہو، جیسے کہ بتایا گیا کہ اسراف بھی نہ ہو، بخیلی بھی نہ ہو، اور عرف کی مخالفت بھی نہ ہو۔
فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ




