سوال (4459)

کیا جنت و جہنم کا اختیار سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس ہے، جیسا کہ روافض بیان کرتے ہیں؟

جواب

جنت و جہنم کا فیصلہ اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے، یہ اختیار اللہ تعالیٰ نے کسی نبی، ولی، پیر و فقیر کو نہیں دیا ہے کہ جس کو چاہیں جنت میں داخل کردیں، جس کو چاہییں جھنم میں داخل کردیں، یہ بات اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کئی جگہوں پر بیان فرمائی ہے، اللہ تعالیٰ نے کئی مقامات پر اہل ایمان کو جنت کی خوشخبری سنائی ہے، کئی مقامات پر اہل فسق کو جھنم کی وعید سنائی ہے، شریعت میں جتنی بھی دعائیں جنت کے حوالے سے منقول ہیں، وہ بھی اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب ہیں، اس کے مقابلے میں روافض کی طرف سے کئی احادیث گھڑی گئی ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کئی لوگوں کو جنت و جھنم میں داخل کریں گے، مندرجہ ذیل حدیث میں ان موضوع روایات میں سے ہے۔
(1) جنت و جہنم کا اختیار صرف اللہ تعالیٰ کے پاس ہے:
ارشاد باری تعالیٰ ہے۔

“وَكَذٰلِكَ اَوۡحَيۡنَاۤ اِلَيۡكَ قُرۡاٰنًا عَرَبِيًّا لِّـتُـنۡذِرَ اُمَّ الۡقُرٰى وَمَنۡ حَوۡلَهَا وَتُنۡذِرَ يَوۡمَ الۡجَمۡعِ لَا رَيۡبَ فِيۡهِ‌ؕ فَرِيۡقٌ فِى الۡجَنَّةِ وَفَرِيۡقٌ فِى السَّعِيۡرِ” [الشورى : 7]

«اور اسی طرح ہم نے تیری طرف عربی قرآن وحی کیا، تاکہ تو بستیوں کے مرکز(مکہ)کو ڈرائے اور ان لوگوں کو بھی جو اس کے ارد گرد ہیں اور تو اکٹھا کرنے کے دن سے ڈرائے جس میں کوئی شک نہیں، ایک گروہ جنت میں ہوگا اور ایک گروہ بھڑکتی آگ میں»
(2) سب سے پہلے جنت کا دروازہ کون کھٹکھٹائیں گے:
باقی اس روایت میں یہ بات ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ جنت کے دروازے کو کھٹکھٹائیں گے، یہ بھی صحیح نہیں ہے، اس لیے کہ جنت کا دروازہ سے سے پہلے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کھٹکھٹائیں گے۔
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

«أَنَا أَكْثَرُ الْأَنْبِيَاءِ تَبَعًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَأَنَا أَوَّلُ مَنْ يَقْرَعُ بَابَ الْجَنَّةِ» [صحيح مسلم: 196]

«قیامت کے دن تمام انبیاء کرام سے زیادہ میرے تابعدار ہوں گے اور سب سے پہلا میں ہوں گا جو جنت کا دروازہ کھٹکھٹاؤں گا»

فضیلۃ الباحث افضل ظہیر جمالی حفظہ اللہ