سوال (6500)
کتا نجس ہے؟ اگر وہ کسی چیز کو چھو جائے یا ٹچ کر جائے تو اس کے بارے میں کیا احکامات ہیں؟ چار پائی وغیرہ پر چڑھ جائے پاؤں رکھ لے تو وہ نجس ہوجائے گی؟
جواب
کتا بذاتِ خود ناپاک نہیں ہوتا، قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے شکاری کتے کے ذریعے پکڑے گئے شکار کو حلال قرار دیا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
“فَكُلُوا مِمَّا أَمْسَكْنَ عَلَيْكُمْ وَاذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ عَلَيْهِ” [ سورة المائدة: 4]
پس وہ (شکاری جانور/کتے) جو تمہارے لیے پکڑ کر لائیں، اس میں سے کھاؤ اور اس پر اللہ کا نام لو۔
صحیح بخاری کی روایت ہے۔
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ:
“كَانَتِ الكِلاَبُ تَبُولُ وَتُقْبِلُ وَتُدْبِرُ فِي المَسْجِدِ، فِي زَمَانِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمْ يَكُونُوا يَرُشُّونَ شَيْئًا مِنْ ذَلِكَ” [صحیح بخاری: 174]
“رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں کتے مسجد (کے صحن) میں آتے جاتے تھے، لیکن صحابہ کرام ان جگہوں پر پانی نہیں چھڑکتے تھے”
بس اس کا تھوک ناپاک ہے جس کے متعلق نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
“إِذَا وَلَغَ الْكَلْبُ فِي إِنَاءِ أَحَدِكُمْ فَلْيَغْسِلْهُ سَبْعَ مَرَّاتٍ…” [صحیح مسلم: 279]
«جب تم میں سے کسی کے برتن میں کتا منہ ڈال دے (چاٹ لے)، تو اسے سات مرتبہ دھوئے»
اگر کتا کسی چیز کو، جیسے کہ چارپائی وغیرہ کو صرف چھو لے یا اس پر چڑھ جائے، تو وہ چیز ناپاک نہیں ہوتی اور نہ ہی اس سے آپ کی پاکیزگی پر کوئی فرق پڑتا ہے۔
فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ
کتے کے چھونے سے اگر اس کے جسم کی رطوبت (پسینہ وغیرہ) کپڑوں پر لگ جائے تو اسے دھونا ضروری ہے۔ اگر اس کا جسم خشک ہو اور وہ چھو جائے تو کوئی مضائقہ نہیں۔
فضیلتہ العالم حافظ قمر حسن حفظہ اللہ




