سوال        6948

کیا مغرب کے بعد چھ رکعات نوافل پڑھنے کی کوئی فضیلت ثابت ہے؟
اگر اس طرح کی روایت کوئی ثابت ہے تو مکمل حوالہ بتا دیں۔ اگر نہیں بھی ہے تو وہ روایت سینڈ کر دیں۔

جواب

یہ لنک ملاحظہ فرمائیں:
درجة حديث صلاة ست ركعات بعد المغرب والمقارنة بين أحكام السيوطي والألباني على الأحاديث – الإسلام سؤال وجواب https://share.google/ZU1WfQQUsIuUtqUDU

فضیلۃ العالم عثمان زید حفظہ اللہ

اس باب کی تمام روایات سخت ضعیف اور موضوع ہیں
ان میں سے بعض کے لئے دیکھیے الضعيفة للألباني :(468 ،469 ) ،مشكاة المصابيح :(1173 ،1174) ت: شيخ حافظ زبير على زئى رحمة الله عليه ،سنن ترمذی :(435) ،خلاصة الأحكام للنووى:(1838)،علل الحديث لابن أبي حاتم الرازى :2/ 51(208)،تذكرة الحفاظ لابن القيسراني :(843) ،المجروحين لابن حبان:2/ 83
فائدة: جان لیں کہ مغرب کی نماز کے بعد عشاء تک جتنے نوافل پڑھنا چاہیں پڑھ سکتے ہیں۔
یہ عمل رسول اکرم صلی الله علیہ وسلم سے ثابت ہے۔
دیکھیے سنن ترمذی: (3781)، مسند أحمد بن حنبل: (233329) سنده حسن لذاته
هذا ما عندي والله أعلم بالصواب

فضیلۃ العالم ابو انس طیبی حفظہ اللہ