سوال (5195)

اگر کوئی مسافر شخص قصر نماز کی بجائے وہاں کی مقیم جماعت کے ساتھ پوری نماز پڑھتا ہے تو کیا اس مسافر پر اس نماز کی سنن بھی ہیں یا قصر کی طرح سنن معاف ہیں؟

جواب

سفر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سنت مؤکدۃ نہیں پڑھی، صرف فجر کی سنتیں پڑھی ہیں، باقی نوافل کی گنجائش ہے اگر کوئی پڑھنا چاہے، ویسے تو فرض آدھے ہوگئے ہیں تو سنتیں بالاولی معاف ہیں، باقی مسافر کا مقیم کی اقتداء میں پوری نماز پڑھنا یہ امام کی وجہ سے ہے۔

فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ

سوال: قصر نماز کے حکم میں فجر کی نماز کی سنتیں بھی شامل ہیں یا قصر نماز میں فجر کی چار رکعات ہی پڑھیں گے؟

جواب: سفر میں رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فجر کی سنتیں ترک نہیں فرمائی ہیں باقی قصر نماز سے مراد ہے چار رکعات والی فرض نماز کے صرف دو فرض پڑھنا کیونکہ رسول اکرم صلی الله علیہ وسلم سے فجر کے علاوہ سنتیں پڑھنا ثابت نہیں ہے۔

مثلا سیدنا عبد الله بن عمر رضی الله عنہ نے سفر کے دوران ظہر کی  نماز قصر پڑھنے کے بعد لوگوں کو سنتیں پڑھتے ہوئے دیکھا تو فرمایا:

ﻟﻮ ﻛﻨﺖ ﻣﺴﺒﺤﺎ ﻷﺗﻤﻤﺖ ﺻﻼﺗﻲ، ﻳﺎ اﺑﻦ ﺃﺧﻲ ﺇﻧﻲ ﺻﺤﺒﺖ ﺭﺳﻮﻝ اﻟﻠﻪ ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ ﻓﻲ اﻟﺴﻔﺮ، ﻓﻠﻢ ﻳﺰﺩ ﻋﻠﻰ ﺭﻛﻌﺘﻴﻦ ﺣﺘﻰ ﻗﺒﻀﻪ اﻟﻠﻪ، ﻭﺻﺤﺒﺖ ﺃﺑﺎ ﺑﻜﺮ، ﻓﻠﻢ ﻳﺰﺩ ﻋﻠﻰ ﺭﻛﻌﺘﻴﻦ ﺣﺘﻰ ﻗﺒﻀﻪ اﻟﻠﻪ، ﻭﺻﺤﺒﺖ ﻋﻤﺮ، ﻓﻠﻢ ﻳﺰﺩ ﻋﻠﻰ ﺭﻛﻌﺘﻴﻦ ﺣﺘﻰ ﻗﺒﻀﻪ اﻟﻠﻪ، ﺛﻢ ﺻﺤﺒﺖ ﻋﺜﻤﺎﻥ، ﻓﻠﻢ ﻳﺰﺩ ﻋﻠﻰ ﺭﻛﻌﺘﻴﻦ ﺣﺘﻰ ﻗﺒﻀﻪ اﻟﻠﻪ ﻭﻗﺪ ﻗﺎﻝ اﻟﻠﻪ:{ﻟﻘﺪ ﻛﺎﻥ ﻟﻜﻢ ﻓﻲ ﺭﺳﻮﻝ اﻟﻠﻪ ﺃﺳﻮﺓ ﺣﺴﻨﺔ}[ اﻷﺣﺰاﺏ: 21]

اگر سنتیں پڑھنی لازم ہوتیں تو میں نماز (بھی) پوری کرتا(قصر نہ کرتا) اے بھتیجے! میں سفر میں رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے ساتھ رہا آپ نے دو رکعت سے زیادہ نماز نہیں پڑھی حتی کہ  الله تعالی نے آپ کو اپنے پاس بلا لیا ( یعنی آپ وفات پا گئے) اور میں سیدنا ابو بکر رضی الله عنہ کے ساتھ رہا انھوں نے بھی دو رکعت سے زیادہ نماز نہیں پڑھی حتی کہ اللہ تعالی نے انھیں بھی بلا لیا، اور میں سیدنا عمر رضی الله  عنہ کے ساتھ رہا، انھوں نے بھی دو رکعت  سے زیادہ نہیں پڑھی۔ حتی کہ الله تعالی نے انھیں بھی بلا لیا۔ پھر میں سیدنا عثمان رضی الله  عنہ کے ساتھ رہا انہوں نے بھی دو سے زیادہ رکعتیں نہیں پڑھیں، حتی کہ الله نے انھیں اپنے پاس بلا لیا اور اللہ تعالی کا فرمان ہے:

بلاشبہ یقیناً تمھارے لیے الله کے رسول میں ہمیشہ سے اچھا نمونہ ہے۔ صحیح مسلم: (689)

ہمیں جتنا سنت کے قریب ہو کر زندگی گزار سکتے ہیں گزارنی چاہیے اور دی ہوئی رخصت سے فائدہ حاصل کرنا چاہیے ہے۔

سفر میں قصر کا اہتمام کرنا ہی افضل وسنت ہے البتہ پوری پڑھنے کا جواز موجود ہے۔

اسی طرح فرض نمازوں کی سنن کے علاوہ سفر میں نفل ادا کرنا بھی ثابت ہے۔

سیدنا ابن عمر رضی الله عنہ نے جو اکثر واغلب اور افضل عمل تھا اس کی اہمیت بیان کی ہے اور یہی راجح ہے۔

باقی قصر نماز کے مسائل واحکام کی تفصیل کتب احادیث وشروحات میں ملاحظہ کی جا سکتی ہے۔ والله أعلم بالصواب

فضیلۃ العالم ابو انس طیبی حفظہ اللہ