سوال (4902)

1: کیا مرنے کے بعد قبر میں مردہ جسم کے اندر روح لوٹائی جاتی ہے۔
2: قبر میں سوالات و جوابات کا سلسلہ روح سے ہوتا ہے۔
3: عذاب قبر کا معاملہ روح سے ہے۔
4: کیا جو اللہ کی راہ میں قتل ہوتے ہیں۔ اس کی ارواح بھی قتل ہوتی ہیں۔
5: کیا روح کھاتی پیتی ہے اہلحدیث کا کیا عقیدہ ہے؟

جواب

جی ہاں یہ صحیح عقیدہ ہے، قبر میں سوال و جواب کے لیے میت میں روح کو لوٹا دیا جاتا ہے، روح کے جسم کے ساتھ کئی قسم کے تعلقات ہیں، اس کی نوعیتیں ہیں، اس کی تفصیل عقیدۃ الطحاویہ میں دیکھی جا سکتی ہیں، اس میں سے ایک شکل یہ ہے کہ قبر میں روح کو لوٹا دیا جاتا ہے، قبر میں سوال و جواب کا سلسلہ ہوتا ہے، وہ جسم اور روح دونوں سے ہوتا ہے، کیونکہ جو عمل ہے، وہ روح اور جسم کے اشتراک سے وجود میں آتا ہے، عذاب قبر کا معاملہ روح اور جسم دونوں کے ساتھ ہے، آج روح جسم کے تابع ہے، کل جسم روح کے تابع ہوگا، جو اللہ کے راستے میں قتل کیے جاتے ہیں، روح قتل نہیں ہوتی، روح نکال دی جاتی ہے یا علیین میں چلی جاتی ہے، یا سجین میں چلی جاتی ہے، سوال و جواب کے لیے اس کا کوئی رابطہ بنایا جاتا ہے، پھر وہ اپنی جگہ ہوتی ہے۔ روح کے بارے میں کم علم دیا گیا ہے۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے۔

“وَيَسۡــئَلُوۡنَكَ عَنِ الرُّوۡحِ‌ ؕ قُلِ الرُّوۡحُ مِنۡ اَمۡرِ رَبِّىۡ وَمَاۤ اُوۡتِيۡتُمۡ مِّنَ الۡعِلۡمِ اِلَّا قَلِيۡلًا” [الإسراء: 85]

«اور وہ تجھ سے روح کے بارے میں پوچھتے ہیں، کہہ دے روح میرے رب کے حکم سے ہے اور تمھیں علم میں سے بہت تھوڑے کے سوا نہیں دیا گیا»
روح اکیلی کچھ نہیں کرتی، کھانا اور پینا، خواہشات اور شہوات روح اور جسم کے اشتراک سے جنم لیتی ہیں، کھانا پینا پھر بنتا ہے، آج کل روح اور جسم کے تعلقات مکمل ہیں، میدان حشر میں مکمل ہونگے، اخروی تعلقات جزوی ہیں۔

فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ