سوال 6938
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ!
کیا کسی کی طرف سے قسم کا کفارہ ادا کیا جا سکتا ہے؟ یا پھر قسم توڑنے والا مدد لینے کی بجائے لازمی طور پر تین روزے رکھ کر کفارہ ادا کرے؟ مثلًا خاتون نے قسم کھائی اور توڑ دی۔ تو کیا ان کی بیٹیاں کفارے میں ان کی طرف سے مساکین کو کھانا کھلا سکتی ہیں؟
جواب
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
جی ہاں زندہ لوگوں کی طرف سے نیابت کی جا سکتی ہے۔ کوئی بچیاں اگر اپنی والدہ کی طرف سے قسم کا کفارہ دینا چاہتی ہیں تو دے لیں۔ کوئی حرج نہیں ہے۔
فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ



