سوال      6781

انا محمد بن عبداللہ بن عبدالمطلب بن ھاشم بن عبد مناف بن قصی بن کلاب بن مرۃ بن کعب بن لؤی بن غالب بن فھر بن مالک بن النضر بن کنانۃ بن خزیمۃ بن مدرکۃ بن الیاس بن مضربن نزار بن معدبن عدنان، ما افترق الناس فرقتین الا جعلنی اللہ فی خیر ھما فاخرجت من بین ابوین فلم یصبنی شیئ من عھد الجاھلیۃ و خرجت من نکاح و لم اخرج من سفاح من لدن اٰدم حتی انتھیت الی ابی وامی فانا خیرکم نفسا و خیرکم ابا، وفی لفظ فانا خیرکم نسباً وخیرکم اباً“

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
مشائخ کرام رہنمائی فرمائیں۔ جزاکم اللّٰہ خیراً۔۔۔ کیا یہ حدیث صحیح ہے؟

جواب

هل طعنت قريش في نسب النبي صلى الله عليه وسلم؟ – الإسلام سؤال وجواب https://share.google/1xwWPdm9bqdyVrVun

وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
جی، ایک ملتی جلتی روایت مجھے بھی ملی ہے، جس میں آپ کے ذکر کردہ الفاظ موجود ہیں۔ اس میں اگرچہ کچھ اضافی الفاظ اور کلام بھی شامل ہیں، البتہ جو بات وہاں بیان کی گئی ہے، مفہوماً وہ بالکل صحیح اور درست ہے۔
اب اگر کوئی شخص اس کا کوئی اور معنیٰ اخذ کرنا چاہتا ہے، تو اسے واضح طور پر بیان کرنا چاہیے۔

فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ