سوال        6775

عمر و بن عاص رضی اللہ عنہ نے، جب وہ نزع کے عالم میں تھے، اپنے بیٹے سے کہا: جب میں فوت ہو جاؤں تو میرے ساتھ کوئی نوحہ کرنے والی جائے نہ آگ، جب تم مجھے دفن کر چکو اور مجھ پر مٹی ڈال لو تو پھر اتنی دیر تک میری قبر کے گرد کھڑے رہنا جتنی دیر میں اونٹ ذبح کر کے اس کا گوشت تقسیم کیا جاتا ہے، حتی کہ میں تمہاری وجہ سے خوش اور پر سکون ہوں اور میں جان لوں کہ میں اپنے رب کے بھیجے ہوئے قاصدوں (فرشتوں) کو کیا جواب دیتا ہوں۔ رواہ مسلم۔ [مشکوة المصابیح کتاب جنازہ/حدیث: 1716]
تخريج الحديث:- تحقیق و تخریج: محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ (121/192) اسے مسلم نے روایت کیا ہے۔
السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ کیا صحابی رسول صلی اللہ علیہ وسلم کایہ عمل حجت ہے؟ یعنی اس کے مطابق عمل کرنا چاہیے۔

جواب

وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
یہ سیدنا عمرو بن العاص کی وصیت تھی اور یہ ان کا اپنا ایک ذاتی قول اور عمل تھا اور غالباً اس پر عمل بھی نہیں کیا گیا اور نہ یہ کوئی بطورِ حجت کے پیش کیا جا سکتا ہے مرفوعاً یا آثارِ سلف میں ہمیں کچھ نہیں ملتا کہ کسی نے ایسی وصیت اور ایسی نصیحت کی ہو۔ ان کی ایک ذاتی رائے تھی اپنی، بس اتنی ہی بات ہے اس کے اندر۔

فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ

سائل: اس کی دلیل بحوالہ پیش کردیں کے انکی اس وصیت پر عمل نہیں ہوا؟
جواب: جو کہتے ہیں کہ جی وصیت پر عمل ہوا، دلیل وہ دے دیں اور اگر آپ ثابت بھی کر دیتے ہیں کہ جی ہوا عمل، ٹھیک ہے؟ تو کس نے کیا؟ ٹھیک ہے؟ اور ان کی اس ذاتی رائے کی کوئی شرعی حیثیت متعین کریں کہ یہ حکم فرض تھا، واجب تھا، مستحب تھا، مندوب تھا، مباح تھا، کیا تھا؟ تعین بھی کریں۔

فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ