سوال 6906
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتۃ!
شیخ صاحب سوال ہے کہ کیا سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کا تجارت کرنا ثابت ہے؟
جواب
وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ!
سیدہ خدیجہ نے اسلام قبول کرنے کے بعد کوئی تجارت نہیں کی اور تعجب کی بات یہ ہے کہ خواتین کو زبردستی پیسہ کمانے کی دوڑ میں شامل کرنے والوں کے پاس اس کے علاوہ کوئی اور دلیل نہیں ہے۔
فضیلۃ الشیخ عبد الرزاق زاہد حفظہ اللہ
سائل: بارک اللہ فیک، شیخنا مجھے تو اسلام سے پہلے جو کہ سیرت ہشام میں ہے اس پر بھی شک ہے۔
پھر بھی اگر واقعہ درست ہے تو حضرت خدیجہ تو اسلام قبول سے پہلے بھی با پردہ تھیں اور نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم بطور نمائندہ شام گئے، یہ تو ان کے خلاف دلیل بنتی ہے الٹا کہ سیدہ تو گھر سے نہ نکلیں نمائندہ تو پھر مرد ہی تھے جو باہر یا دیگر ممالک گئے۔
فأین تذھبون؟
جواب: اگر اس کو درست بھی مان لیا جائے تو تب بھی اس سے بعد از اسلام خواتین کی کمائی کا کوئی جواز نہیں بنتا۔ کیونکہ خواتین کا پیسے کمانا تو ویسے بھی قرآن کے خلاف سمجھا جاتا ہے، جیسا کہ آیت ہے:
“الرجال قوامون على النساء بما فضل الله بعضهم على بعض وبما أنفقوا”۔
اصل چیز یہ ہے کہ ابھی پرسوں بلکہ کل ایک جگہ میرا درس تھا، خواتین کے ادارے میں۔ وہاں بھی یہی بات ہو رہی تھی کہ عورت نے جب سے کمانا شروع کیا: ایک تو رزق سے برکت اٹھ گئی، دوسرا گھروں کا بیڑہ غرق ہو گیا، تیسرا خواتین سرکش ہو گئیں، چوتھا نئی نسل کی تربیت ختم ہو کر رہ گئی۔
وہاں سوال آیا کہ مرد بدتمیزی کرتے ہیں، گالیاں دیتے ہیں۔ میں نے جواب میں کہا: مرد کی تربیت کون کرتا ہے؟ قدرت کا ایک اصول ہے کہ بچوں کی تربیت ماں کرتی ہے۔
میں دیہاتی آدمی ہوں، آج تک آپ نے کبھی بلی کے بچوں کو بلے کے پیچھے جاتے نہیں دیکھا ہوگا؛ کسی کٹڑے کو بھینسے کے پیچھے، کسی بچھڑے کو بیل کے پیچھے جاتے نہیں دیکھا ہوگا۔ یہاں تک کہ شیر کو شکار شیرنی سکھاتی ہے، بگلوں کو اڑنا ان کی ماں سکھاتی ہے۔
تو میں نے ان خواتین سے عرض کیا کہ یہ کہنا کہ مرد بدتمیز اور منہ پھٹ ہے اسے بدتمیز اور منہ پھٹ بنایا کس نے؟ تم خواتین نے ہی تو بنایا۔
یہ سارے معاملات کیوں بنے؟ جب عورت نے اپنی اصل ذمہ داری چھوڑ کر رزق کمانے کا وہ ذمہ اٹھا لیا جو اس کا اصل کام تھا ہی نہیں۔
فضیلۃ الشیخ عبدالرزاق زاہد حفظہ اللہ
سائل: شیخ محترم۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی بیوی کا کاروبار کس حد اور کس نوعیت کا تھا؟
جواب: گزارش یہ ہے کہ ہمیں اس طرف جانے کی ضرورت ہی نہیں۔ اگر کوئی ایک آدھ مثال مل بھی جائے تو اس سے آج کل کا جو طوفانِ بدتمیزی ہے، اس کا ثبوت تو نہیں نہ ملتا۔
فضیلۃ الشیخ عبدالرزاق زاہد حفظہ اللہ
سائل: ویسے معذرت کیساتھ شیخ محترم کیا حضرت عمر کا کسی عورت (شفاء بنت عبداللہ) کو بازار کا نگران مقرر کرنا ثابت ہے؟ غالبا طبقات ابن سعد کا حوالہ ہے۔
یہ تو شیخ محترم دستکاری کا شاید کام تھا اس سے تو گھر سے باہر نکلنا ثابت نہی ہوتا نہ۔
جواب: رمضان جیسے مہینے میں اس قسم کی بحث کو چھیڑنا میرے خیال میں کچھ زیادہ مفید نہیں ہے۔ اس حوالے سے میرے چینل پر تفصیلی ویڈیو موجود ہے کہ خواتین کی ملازمت کی شرعی حیثیت کیا ہے۔ اس بارے میں شریعت کا مزاج بڑا معتدل قسم کا ہے۔ بنیادی بات یہ ہے کہ اگر اس بات کو مان لیا جائے کہ سیدنا عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے کسی خاتون کو بازار کا نگران مقرر کیا تھا تو اس سے مراد یہ نہیں ہے کہ وہ عورت کمائی کرنے گئی تھی۔ ظاہر ہے کچھ شعبہ جات ایسے ہوتے ہیں کہ جہاں پر صرف خواتین ہی کام کر سکتی ہیں۔ تو یہاں بنیادی سوال سمجھنا ہے کہ خواتین اگر کسی شعبے میں کام کرتی ہیں تو اس کا مقصد پیسے کمانا ہے یا کہ خواتین کو سہولت مہیا کرنا ہے، بنیادی سوال یہ ہے۔
فضیلۃ الشیخ عبدالرزاق زاہد حفظہ اللہ
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته!
یہ واقعہ غیر ثابت ہے۔
تفصیل اس لنک پر ملاحظہ کریں
https://www.alukah.net/books/files/book_6194/bookfile/shefaa.pdf
فضیلۃ العالم ابو انس طیبی حفظہ اللہ



