سوال (6476)
بے پردہ عورت کی شرعی حیثیت!
اللہ اس عورت کی نماز قبول نہیں کرتا جو بالغ ہونے کے بعد بھی پردہ نہیں کرتی۔(سنن ابوداؤد)
یہ ایسے ہی ہے یا نماز میں پردہ؟
جواب
حدیث کا یہ معنی مراد لینا غلط ہے۔اصل الفاظ اس طرح ہیں۔
عَنْ عَائِشَةَ عَنْ النَّبِيِّ ﷺ أَنَّهُ قَالَ لَا يَقْبَلُ اللهُ صَلَاةَ حَائِضٍ إِلَّا بِخِمَارٍ قَالَ أَبُو دَاوُد رَوَاهُ سَعِيدٌ يَعْنِي ابْنَ أَبِي عَرُوبَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ الْحَسَنِ عَنْ النَّبِيِّ ﷺ ابوداؤد: 641
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ’’اللہ تعالیٰ کسی بالغ عورت کی نماز اوڑھنی کے بغیر قبول نہیں فرماتا۔ سند،حسن، ھذا ما عندی واللہ اعلم باالصواب
فضیلۃ الباحث ابو زرعہ احمد بن احتشام حفظہ اللہ
عورت کے سر پر نماز میں اوڑھنی ہونا اتفاقی مسئلہ ہے۔ مگر یہ روایت علی الراجح ضعیف ہے۔
اول حماد بن سلمہ عن قتادہ روایت کثرت خطاء پر مشتمل ہوتی ہے جیسا کہ امام مسلم ،حافظ ابن رجب نے کہا۔
دوسرا اس روایت کے مرفوع ومرسل موقوف ہونے میں اختلاف ہے اور راجح اس کا موقوف ومرسل ہونا ہی ہے اور روایت یوں یہ ضعیف ہے۔
اس پر 2023 میں کچھ تحقیق لکھی تھی مشکاۃ کی تعلیق میں وہاں ان ائمہ کی تصریحات بھی ہیں۔
تفصیل العلل للدارقطنى:14/ 431(3780)، فضل الرحیم الودود في تخريج سنن أبي داود ،أحاديث معلة ظاهرها الصحة الشيخ مقبل بن هادى الوادعى:(512) ،ص:472 ،473 وغیرہ میں دیکھیں۔
فضیلۃ العالم ابو انس طیبی حفظہ اللہ




