سوال      6688

السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
حوض کوثر کے بیان میں حدیث مبارکہ میں صحابہ کرام کے حوالے سے جو لکھا ہے؟ اس کا کیا جواب دیا جائے گا؟

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ كَانَ يُحَدِّثُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَرِدُ عَلَيَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ رَهْطٌ مِنْ أَصْحَابِي فَيُحَلَّئُونَ عَنْ الْحَوْضِ فَأَقُولُ يَا رَبِّ أَصْحَابِي فَيَقُولُ إِنَّكَ لَا عِلْمَ لَكَ بِمَا أَحْدَثُوا بَعْدَكَ إِنَّهُمْ ارْتَدُّوا عَلَى أَدْبَارِهِمْ الْقَهْقَرَى۔

جواب

وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ۔
اس مسئلے کے جوابات اہلِ علم بہت پہلے دے چکے ہیں، اور دورِ حاضر میں بھی متعدد معتبر علماء نے اس کی واضح تشریح فرمائی ہے۔ ان میں بالخصوص الشیخ ابو یحییٰ نورپوری حفظہ اللہ تعالیٰ، مفتی عتیق الرحمٰن علوی صاحب حفظہ اللہ، حیدرآباد کے ہمارے ساتھی سیف اللہ محمدی صاحب حفظہ اللہ اور دیگر کئی اہلِ علم شامل ہیں۔
خلاصہ یہ ہے کہ لفظ “صحابی” یا “اصحابی” دراصل “صحبت” سے ماخوذ ہے، اور یہ ضروری نہیں کہ ہر جگہ اس کا اصطلاحی معنی ہی مراد لیا جائے۔ بعض مقامات پر یہ لفظ لغوی معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے، یعنی محض ساتھ یا صحبت اختیار کرنے والے۔
یہاں بھی مراد اصطلاحی صحابی نہیں بلکہ لغوی اعتبار سے صحبت اختیار کرنے والے ہیں۔
مزید یہ کہ جو شخص مرتد ہو گیا، اس پر اصطلاحی طور پر صحابی کا اطلاق ویسے ہی نہیں ہوتا۔ یہاں جن لوگوں کی بات ہو رہی ہے، وہ وہی افراد تھے جو وقتی طور پر مسیلمہ کذاب کے ساتھ جڑے تھے۔ اس بنا پر تمام صحابۂ کرامؓ کو مطعون کرنا درست نہیں اور نہ ہی اس کا کوئی علمی جواز ہے۔
اسی طرح یہ بات بھی واضح رہنی چاہیے کہ اصطلاحی معنی میں “صحابی” کا لفظ نہ اس زمانے میں ان لوگوں کے لیے استعمال ہو سکتا ہے اور نہ آج، جن پر بعض لوگ مثلاً مرزا قادیانی جیسے افراد اس لفظ کو زبردستی فِٹ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
الحمدللہ، یہ وضاحت بارہا اہلِ علم کر چکے ہیں اور معاملہ پوری طرح واضح ہو چکا ہے۔
اس کے ساتھ یہ نکتہ بھی سمجھنا چاہیے کہ قرآن و حدیث میں “اصحاب” کا لفظ مختلف مواقع پر مختلف معنوں میں آتا ہے: اصحابُ الیمین، اصحابُ الشمال، اصحابُ النار، اصحابُ المیمنہ، اصحابُ المشأمہ وغیرہ۔
تو کیا ہر جگہ “اصحاب” سے اصطلاحی صحابی ہی مراد لیا جائے گا؟ ظاہر ہے کہ ایسا نہیں۔
لہذا یہ بات بالکل واضح ہے کہ ہر مقام پر الفاظ کو ان کے سیاق و سباق کے مطابق سمجھا جاتا ہے، اور کسی ایک جگہ کے لغوی استعمال کو لے کر صحابۂ کرامؓ پر طعن کرنا نہ علمی دیانت ہے اور نہ ہی شرعی طور پر درست۔

فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ