سوال (6606)
حَدَّثَنَا تَصْرُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحَسَنِ هُوَ الْأَنْمَاطٍ، عَنْ جَعْفَرَ مِنْ مَاطِيُّ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ في حَجَّتِهِ يَوْلَمَ عَلَى عَلَيْهِ نَاقَتِهِ الْقَصْوَاءِ يَخْطُبُ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي قَدْ تَرَكْتُ فِيكُمْ مَا إِنْ لَخَمْ تَضِلُّوا، كِتَابَ اللَّهِ وَعِتْرَتِي أَهْلَ بَيْتِي، قَالَ: وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي ذَرٍ، وَأَبِي سَعِيدٍ، وَزَيْدِ بَرْدِ وَحُذَيْفَةَ بْنِ أَسِيدٍ، قَالَ: وَهَذَا حَسَنٌ غَرِيبٌ هَذَا الْوَجْهِ، قَالَ: وَزَيْدُ بْنُ الْحَسَنِ قَدْ رَوَعُهُ عَنْى سُلَيْمَانَ وَغَيْرُ وَاحِدٍ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ۔
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حجۃ الوداع میں عرفہ کے دن دیکھا، آپ اپنی اونٹنی قصواء پر سوار ہو کر خطبہ دے رہے تھے، میں نے آپ کو فرماتے ہوئے سنا: “اے لوگو! میں تم میں ایسی چیز چھوڑے جا رہا ہوں کہ اگر تم اسے پکڑے رہو گے تو ہر گز گمراہ نہ ہو گے: ایک اللہ کی کتاب ہے دوسرے میری عاشرت یعنی اہل بیت ہیں ” ا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے، ۲۔ زید بن حسن سے سعید بن سلیمان اور متعدد اہل علم نے روایت کی ہے، ۳۔ اس باب میں ابوذر، ابو سعید خدری، زید بن ارقم اور حذیفہ بن اسید رضی اللہ عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔ ترمذی: 3786
اس حدیث کے متعلق رہنمائی فرمائیں، اس میں لفظ عترتی سے کیا مراد ہے؟ اس میں کچھ لوگ کہتے ہیں کہ اطاعت رسول ضروری نہیں بلکہ اہل بیت کی اطاعت ضروری ہے جبکہ اطاعت رسول والی حدیث اور آیات واضح ہیں اس پر رہنمائی فرمائیں۔
جواب
اس سے مراد نبی کریم ﷺ کے اہلِ بیت اور اہلِ اولاد ہیں۔ اس مفہوم کا مقصد یہ ہے کہ انہوں نے جس طرح دین پر عمل کیا، تقویٰ، اخلاص اور اطاعت کا نمونہ پیش کیا، اسی طرح مسلمانوں کو بھی چاہیے کہ انہیں اپنا آئیڈیل بنائیں اور ان کے طریقے کو سامنے رکھ کر اپنی زندگی بسر کریں۔ یعنی اہلِ بیت کا ذکر محض نسبت یا نام کے لیے نہیں، بلکہ اس کا اصل تقاضا یہ ہے کہ ان کے عمل، کردار اور دینی طرزِ زندگی کی پیروی کی جائے اور اسی راستے پر چلنے کی کوشش کی جائے۔
فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ




