سوال       6941

طاق راتوں میں لیلۃ القدر ہونے کا زیادہ امکان ہے؟ لیکن جفت راتوں میں بھی امکان ہو سکتا ہے؟
کیوں کہ نبی علیہ السلام سے آخری عشرہ میں لیلۃ القدر کی تلاش کا حکم ملتا ہے ؟ اس طرح سے تمام دلائل میں تطبیق ہو جاتی ہے۔
شیخ عبدالرحمٰن ضیاء صاحب

جواب

غير متفق۔

فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ

لیلة القدر رمضان کے آخری عشرہ کی طاق راتوں ہی میں سے ایک رات ہے۔ فقط
[صحیح بخاری: 2017]

‏‏‏‏‏‏أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ تَحَرَّوْا لَيْلَةَ الْقَدْرِ فِي الْوِتْرِ مِنَ الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ.

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا، شب قدر کو رمضان کے آخری عشرہ کی طاق راتوں میں ڈھونڈو۔
پورا عشرہ خاص عبادت کے اہتمام کا جہاں ذکر ہے اس سے ترغیب مقصود ہوتی ہے کہ تسلسل قائم رہے تاکہ طاق راتوں میں بہتر عبادت ہوسکے ورنہ ممکن یے ایک رات عبادت اور ایک رات عبادت سے مکمل غفلت اگلی طاق رات کی عبادت سے بھی غافل کردے۔ اس سے یہ مراد نہیں کہ لیلة القدر طاق رات کے علاوہ بھی ہوسکتی ہے۔
ھذا ما عندی واللہ اعلم باالصواب

فضیلۃ الباحث ابو زرعہ احمد بن احتشام حفظہ اللہ