لیلۃ القدر کی دعا

✿۔ ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے پوچھا: اللہ کے رسول! اگر مجھے معلوم ہوجائے کہ کون سی رات لیلۃ القدر ہے تو میں اس میں کیا پڑھوں؟ آپ نے فرمایا، یہ پڑھیں:

«اَللَّهُمَّ إِنَّكَ عَفُوٌّ تُحِبُّ الْعَفْوَ ؛ فَاعْفُ عَنِّي».

’’اے اللہ! تُو معاف کرنے والا ہے، معاف کرنے کو پسند کرتا ہے، مجھے معاف کر دے۔‘‘ (رواه الترمذي : ٣٥١٣ وقال هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ. ووافقه الحاكم والنووي، وأعله الدارقطني ووافقه البيهقي وابن حجر رحمهم الله وهو الأشبه)

⇚شریح بن ہانئ بیان کرتے ہیں، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا :

«لَوْ عَرَفْتُ أَيُّ لَيْلَةٍ لَيْلَةُ الْقَدْرِ مَا سَأَلْتُ اللَّهَ فِيهَا إِلَّا الْعَافِيَةَ».

’’اگر مجھے پتا چل جائے کہ کون سی رات، لیلۃ القدر ہے تو میں اس میں اللہ تعالیٰ سے عافیت کا ہی سوال کروں گی۔‘‘
(المصنف لابن أبي شيبة : ٦/‏٢٤ وسنده صحیح)

⇚ مسروق بیان کرتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا:

«لَوْ عَلِمْتُ أَيُّ لَيْلَةٍ لَيْلَةُ الْقَدْرِ لَكَانَ أَكْثَرَ دُعَائِي فِيهَا أَنْ أَسْأَلَ اللهَ الْعَفْوَ وَالْعَافِيَةَ».

’’اگر مجھے معلوم ہو جائے کہ کون سی رات لیلۃ القدر ہے تو میں اس میں اللہ تعالی سے عافیت اور معافی کا سوال کروں گی۔‘‘
(السنن الكبرى للنسائي – ط الرسالة ٩/‏٣٢٤ وفي سنده ضعف)

⇚ عبد اللہ بن بریدہ بیان کرتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا :

«لَوْ عَلِمْتُ أَيُّ لَيْلَةٍ لَيْلَةُ الْقَدْرِ كَانَ أَكْثَرُ دُعَائِي فِيهَا أَسْأَلُ اللَّهَ الْعَفْوَ وَالْعَافِيَةَ».

’’اگر مجھے معلوم ہو جائے کہ کون سی رات لیلۃ القدر ہے تو میں اس میں اللہ تعالی سے عافیت اور معافی کا سوال کروں گی۔‘‘
(المصنف لابن أبي شيبة – ت الحوت ٦/‏٢٤)

⇚ حسن بصری رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا:

“لَوْ أَدْرَكْتُ لَيْلَةَ الْقَدْرِ مَا سَأَلْتُ اللَّهَ إِلا العفو والعافية.”

’’اگر میں لیلۃ القدر کو پا لوں تو اللہ تعالی سے صرف عفو اور عافیت کا ہی سوال کروں۔‘‘ (ذكر من له الآيات للنجاد، صـ ١٩، تاريخ بغداد – ت بشار ٧/‏٩٨، وهو مرسل)

🖋 … حافظ محمد طاھر حفظہ اللہ

یہ بھی پڑھیں: لیلۃ القدر کے لیے سلف صالحین کا اہتمام