سوال (6541)
السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ، کیسے ہیں آپ شیخ محترم؟ امید ہے ان شاء اللہ خیریت سے ہوں گے۔ شیخ میں نے آپ سے ایک سوال پوچھنا تھا۔ میرے بھائی نے لاسٹ ایئر شادی کی تھی تو وہ لڑکی رہی نہیں ہے یہاں پر، تھوڑی ضدی، خود سر سی لڑکی تھی، دماغ کا بھی تھوڑا اس کا ایشو تھا جس بات پہ اڑ جاتی تھی، سنتی نہیں تھی کوئی بھی بات۔ ایک صرف میری امی اکیلی بزرگ ہیں وہ بھی ستر سال ان کی عمر ہے لیکن وہ کہتی تھی ان کے ساتھ میں نے نہیں رہنا ہے، بس کچھ باتیں اور بھی تھیں جو ایشو بنا کر وہ بس لڑائی جھگڑا کر کے گئی ہے۔ چار مہینے اپنے میکے بیٹھی رہی ہے، پھر میرا بھائی دبئی سے آیا ہے اس نے جا کر منا کر اس کو لایا ہے لیکن ایک ہفتہ رہ کر پھر وہ واپس چلی گئی تھی کیونکہ اس نے کہا کہ میری یہی شرط ہے کہ میں تمہاری ماں کے ساتھ نہیں رہنا، تمہارے بہن بھائیوں کو کسی کو بھی نہ پوچھنا ہے نہ دیکھنا ہے، بہر حال وہ چلی گئی۔ تو ہم لوگوں نے جرگہ وغیرہ کیا، فیصلہ ہو گیا، ڈیوورس دے دی میرے بھائی نے۔ لیکن وہ لڑکی اب کہہ رہی ہے کہ نہ میں نے حق مہر لینا ہے، حق مہر جو تھا بارہ لاکھ اسی ہزار تھا اور اس کا پورا فرنیچر ہمارے گھر میں پڑا ہوا ہے۔ ہم لوگ حق مہر دینے کے لیے بھی راضی ہیں اس بارہ لاکھ اسی ہزار جو اس کا حق مہر تھا کیونکہ طلاق میرے بھائی نے دی ہے اور جہیز بھی ہم لوگ دینے کے لیے تیار ہیں کیونکہ ان کی امانت ہے، ہر چیز ہمارے پاس پڑی ہوئی ہے۔ میری امی بھی اس معاملے میں خاصی پریشان ہیں، دو تین دفعہ انہوں نے مجھے کہا ہے کہ آپ مفتی صاحب سے پوچھیں کہ ہم اس معاملے میں کیا کریں، نہ وہ جہیز لے رہی ہے اٹھا کر لے کر جا رہی ہے اور نہ وہ کہہ رہی ہے کہ میں نے حق مہر لینا ہے، بس اس کو وہیں پہ رہنے دے، پڑا رہنے دے۔ ضدی بہت ہے وہ لڑکی اور مطلب خود سر سی لڑکی ہے، کسی کی بھی نہیں سنتی، ماں تو اس کی ہے نہیں، باپ کی سنتی نہیں ہے، باپ، ڈیڑھ سال شادی کو ہوا تھا وہ بول ہی نہیں رہی تھی باپ کے ساتھ، ایک دفعہ بھی بولی نہیں ہے اپنے باپ کے ساتھ ڈیڑھ سال میں جب ہمارے گھر رہی ہے شادی ہوئی ہے تب بھی نہیں۔ تو اب ہم اس معاملے میں کیا کریں کیونکہ وہ لوگ جرگے میں آتے نہیں ہیں، ایک ہی دفعہ آئے جرگے میں اور اس کے بعد جرگے میں بھی نہیں آتے اور فون پر مطلب ہم تو ان سے رابطہ نہیں کرتے لیکن باہر وہ لوگوں کو یہی کہتے ہیں کہ ہم نے نہ حق مہر لینا ہے نہ ہم نے جہیز اٹھانا ہے۔ کیونکہ ہم نے تو اپنے بھائی کی دوسری شادی کرانی ہے، تو اب ہم کیا کریں اس جہیز کا کیا کریں اور اس حق مہر کا کیا کریں؟ اس بارے میں پلیز مجھے تھوڑا ڈیٹیل سے بتا دیجیے گا۔ جزاک اللہ خیر۔
جواب:
وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ۔ حق مہر خاتون کا شرعی حق ہے، اس لیے انہیں اس کی اہمیت کے بارے میں سمجھایا جانا چاہیے۔ جہاں تک جہیز کا تعلق ہے، تو وہ تحائف کی حیثیت رکھتا ہے؛ اگرچہ اسے اپنے پاس رکھنا جائز ہے، لیکن گھر میں جگہ کی تنگی یا دیگر وجوہات کی بنا پر بہتر یہی ہے کہ فریقِ ثانی سے معذرت کر لی جائے۔ انہیں واضح طور پر بتا دیا جائے کہ گھر میں فرنیچر اور دیگر ضروری سامان پہلے سے موجود ہے، لہٰذا ہمیں جہیز کی ضرورت نہیں۔
ایک صورت یہ بھی ہے کہ جرگے کے ارکان کو گواہ بنا کر یہ معاملہ طے کر دیا جائے کہ ہم حق مہر ادا کرنے کے لیے تیار ہیں۔ یہ رقم خاتون کے والد کے سپرد کر دی جائے۔ اگر فریقِ ثانی جرگے میں شریک نہ بھی ہو، تب بھی آپ جرگے کے سامنے حق مہر بطور امانت پیش کر دیں اور اس عمل کی باقاعدہ دستاویزی کارروائی یا ویڈیو ریکارڈنگ کر لیں تاکہ ثبوت موجود رہے۔
اسی طرح جہیز کے سامان کے حوالے سے بھی انہیں مطلع کر دیں کہ یا تو وہ اپنا سامان لے جائیں، بصورتِ دیگر ہمیں یہ اجازت دیں کہ ہم اسے کسی مستحق کو دے دیں۔ اگر وہ حق مہر وصول کرنے نہ آئیں، تو گواہوں کی موجودگی میں اسے اللہ کی راہ میں (صدقہ) دے دیا جائے۔ ان تدابیر کے ذریعے اس معاملے کو بہتر طریقے سے حل کیا جا سکتا ہے۔
فضیلۃ الشیخ عبدالوکیل ناصر حفظہ اللہ




