لباس کے معاملے میں افراط و تفریط

شریعت میں کسی خاص لباس یا پوشاک کا مطالبہ نہیں کیا گیا، یہ شرعی تعلیمات ضرور ہیں کہ لباس ساتر یعنی پردے کے تقاضوں کو پورا کرنے والا ہونا چاہیے، پینٹ شرٹ بھی اگر کھلی اور ڈھیلی ڈھالی ہو تو جائز ہے، اور اگر شلوار قمیص ٹائٹ اور تنگ ہو تو ناجائز ہے۔
مدینہ منورہ میں بہت سارے ملکوں سے لوگ آتے تھے جنہوں نے پینٹ/ پائجامے وغیرہ پہنے ہوتے تھے، لیکن وقار بحال رہتا تھا، جبکہ بعض ثوب شماغ والے بھی کاسیات عاریات کی تصویر پیش کر رہے ہوتے تھے!
ہمارے ہاں کھیلوں کا لباس جیسا کہ کرکٹ فٹ بال، ہاکی وغیرہ میں پہنا جاتا ہے بالکل بھی درست نہیں ہے، جبکہ سب سے گندا اور غیر مناسب لباس کبڈی کھیلنے والوں کا ہوتا ہے، جس میں رانیں نظر آ رہی ہوتی ہیں۔
پچھلے دنوں کسی مذہبی سیاسی جماعت کی کسی تقریب میں ایک شخص دیکھا جس کا رانوں سے اوپر والا علاقہ بھی نظر آ رہا تھا…!!
کھیلوں کے لباس کو ساتر اور شرعی تقاضوں کے مطابق بنانا ضروری ہے، بالخصوص مدارس اور دینی اداروں میں کھیلوں، ورزش، تدریب وغیرہ کے لیے جو لباس منتخب کیا جائے اس میں شرعی تقاضوں کا خیال رکھا جائے۔
اگر کوئی مدرسہ/ ادارہ برینڈنگ کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے لباس پر اپنا نام، لوگو وغیرہ لگوا سکتا ہے تو کیا وہ شرعی تقاضوں کو بجا لانے کے لیے اس کے سائز میں تبدیلی نہیں کروا سکتا؟
اس وقت معاشرہ افراط و تفریط کا شکار ہے، کچھ لوگوں کے ہاں غیر ضروری تشدد و تنطع ہے، جبکہ کچھ لوگوں نے ہر چیز کو چوپٹ کھول دیا ہے، اللہ تعالی صراط مستقیم کی پہچان اور اس پر گامزن ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔

#خیال_خاطر

یہ بھی پڑھیں:فرقہ واریت اور جناب مرزا جہلمی