سوال 6939
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ!
لقطہ کا کیا حکم ہے؟ اگر اس کی مقدار بالکل کم ہو تو کیا حکم ہے؟ اور اگر زیادہ مقدار کے پیسوں کی چیز ہے تو کیا حکم ہے؟ اور اگر چیز نہیں ہے؟ بلکہ نقدی پیسے ہیں تو آج کل تقریباً کتنی مقدار پر کوئی حرج نہیں ہے یا بچ جانا ہی بہتر ہے؟ اگر چہ بالکل حقیر چیز یا بہت تھوڑے پیسے ہوں سو ڈیڑھ سو، نہ اٹھائی جائے۔ جزاک اللّٰہ خیراً
جواب
وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ!
بالکل معمولی چیز ہو تو استعمال کر لیں۔ کچھ درجے کی ہو تو کم سے کم ایک ماہ تک کوشش کریں کہ اس کے مالک کا پتا چل جائے۔ بصورتِ دیگر استعمال کر لیں اور لکھ کے رکھ لیں کہ اتنی چیز تھی گواہ بنا لیں اور یہ کل کہ کو اگر وہ آتا ہے تو پھر لوٹا دیں اس کو یا بتا دیں کہ جی استعمال ہو گئی یا صدقہ کر دی ہم نے آپ کی طرف سے جو بھی ہو پوری وضاحت کر دی جائے مان جاتا ہے ٹھیک ہے ورنہ دے دیں اس کو۔ اور بہت زیادہ قیمتی ہے کوئی بھی چیز ہو رقم ہو یا کچھ بھی ہو تو پھر ایک سال تک اس کے لیے تلاش ہے، اعلان ہے اور بصورتِ دیگر وہ بھی صدقہ بھی ہو سکتی ہے اور استعمال بھی لیکن لازمی طور پر اس کو لکھ دیا جائے گواہ بنا لیے جائیں تاکہ کل کو اگر وہ آئے تو پھر سمجھایا جا سکے بتایا جا سکے وہ راضی ہو جاتا ہے تو صدقہ ہو گئی یا استعمال ہو گئی اگر نہیں راضی ہوتا نہیں مجھے چاہیے تو پھر دینا ہو گی اس کو دے دیں صدقہ آپ کے کھاتے میں آ جائے گا ان شاءاللہ۔ اور یہ کہنا کہ جی نہ اٹھائیں نہ پڑا رہنے دیں یہ بلا وجہ کی بات ہے۔ نبی علیہ الصلوٰۃ والسلام نے بکری کے بارے میں فرمایا تھا:
“إِنَّهَا لَكَ أَوْ لِأَخِيكَ أَوْ لِلذِّئْبِ”
فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ



