سوال (6171)
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ هَارُونَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ: مَا رَأَيْتَ ابْنَ الْمُسَيَّبِ قَابضًا يَمِينَهُ فِي الصَّلَاةِ، كَانَ يُرْسِلُها.
حضرت عبداللہ بن یزید فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت سعید بن مسیب کو کبھی نماز میں دائیں ہاتھ کو بائیں پر رکھتے ہوئے میں دیکھا وہ نماز میں ہاتھ کھلے چھوڑا کرتے تھے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْعَيُزَارِ، قَالَ: كُنتُ أَطُوفُ مَعَ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، فَرَأَى رَجُلًا يُصَلِّى وَاضِعًا إِحْدَى يَدَيْهِ عَلَى الْأُخْرَى، هَذِهِ عَلَى هَذِهِ، وَهَذِهِ عَلَى هَذِهِ، فَذَهَبَ فَفَرَّقَ بَيْنَهُمَا ثُمَّ جَاءَ.
حضرت عبداللہ بن غیز ارفر ماتے ہیں کہ میں حضرت سعید بن جبیر کے ساتھ طواف کر رہا تھا۔ انہوں نے ایک آدمی کو دیکھا س نے اپنا ایک ہاتھ دوسرے ہاتھ پر رکھا ہوا تھا ، حضرت سعید بن جبیر اس کے پاس گئے اور اس کے ہاتھ کھلوا کر واپس آئے۔ یہ آثار صحیح سند سے ثابت ہیں؟
جواب
یہ آثار خلاف سنت ہیں، نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم سے نماز میں ارسال ثابت نہیں بلکہ ہاتھ باندھنا ثابت ہے اور یہی سنت ہے۔
فضیلۃ العالم ابو انس طیبی حفظہ اللہ




