سوال 6696
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ
دوستوں کے ساتھ مل کر انویسٹمنٹ کی ہے اور میں سیل مین ہو، میں سامان خرید کر سیل کرتا میں نے رقم لینی بھی ہوتی ہے اور دینی بھی اس میں زکوۃ کا حساب کیسے ہوگا اور کتنی رقم ہر زکوۃ ہو گی؟
جواب
وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ
یہ مال تجارت ہے۔ اگر نصاب کو پہنچ جاتا ہے تو پھر کل مال پر حساب ہو گا۔
فضیلۃ العالم اکرام اللہ واحدی حفظہ اللہ
سائل: جزاک اللہ خیرا
مال کا نصاب کیا ہے؟ اور یہ کتنی رقم ہوگی روپوں میں؟
جواب: نصاب: درہم و دینار سونا چاندی اور رقم میں سونے کا حساب کریں تو آج کل کے مطابق 35 لاکھ تو کم از کم بن رہا ہے۔
اور اگر چاندی کی بات کریں تو تقریبا سوا 6 لاکھ روپے بنتے ہیں۔
فضیلۃ العالم اکرام اللہ واحدی حفظہ اللہ
سائل: کیا اگر قرض بھی دینا ہو تو یہ رقم قرض جو دینا ہے اسے نکال کر ہو گی؟
جواب: آپ پر جو قرض ہے آپ اس کے مالک نہیں ہیں اس لیے وہ آپ کے مال میں جمع نہیں ہوگا۔
اسی طرح جو قرض آپ نے لینا ہے آپ اس کے مالک ہیں یہ آپ کے مال میں جمع ہوگا۔
فضیلۃ العالم اکرام اللہ واحدی حفظہ اللہ
سوال: السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ شیخ محترم
ایک شخص ایک سال قبل نصابِ زکوٰۃ کا مالک ہو گیا تھا، بعد ازاں وہ ہر ماہ اپنی تنخواہ میں سے رقم جمع کرتا رہا۔
دریافت طلب ہے کہ اس صورت میں زکوٰۃ کب اور کس مال پر واجب ہوگی؟
کیا بعد میں جمع ہونے والی رقم کے لیے الگ سال شمار ہوگا یا سب پر ایک ساتھ زکوٰۃ ادا کی جائے گی؟
اور اس پر بھی روشنی ڈال دیں شیخ محترم کہ جو کاروبار کے لیے مشینری وغیرہ یا دوکان میں چیزیں سودا سلف کیا اس پر بھی زکوٰۃ ہوگی؟
براہِ کرم رہنمائی فرما دیں۔
جواب: وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
الگ الگ حساب رکھ سکتے ہیں تو رکھ لیں، کیونکہ زکوٰۃ سال گزرنے پر ہی فرض ہوتی ہے۔
عن ابن عمر قال: لا تجب في مال زکوۃ حتی یحول علیہ الحول
کسی مال پر زکوٰۃ نہیں حتیٰ کہ اس پر سال گزر جائے۔ [الموطا: 584, سندہ صحیح]
لیکن اس طرح حساب ممکن نہیں ہوتا، لہذا جو دن زکوٰۃ کے لیے مقرر ہے، اس دن جتنا مال موجود ہے، سب کی زکوٰۃ دے دیں۔
ھذا ما عندی واللہ اعلم باالصواب
ایک ہوتا ہے سامانِ تجارت، اور سامانِ تجارت پر زکوٰۃ ہوتی ہے۔
مثلاً کسی کی پرچون کی دکان ہے، اس میں آٹا، دال، چاول اور اس طرح کی دوسری اشیاء موجود ہیں۔ اب طریقہ یہ ہے کہ جب ایک سال پورا ہو جائے، چاہے وہ قمری ہو یا عرفاً انگریزی سال کے حساب سے، تو سال کے آخر میں یہ دیکھا جائے کہ دکان میں اس وقت کتنا مال موجود ہے۔
اس موجودہ مال کی موجودہ فروخت قیمت لگائی جائے، اندازے کے ساتھ جو مارکیٹ ریٹ ہے۔ فرض کریں اس کی قیمت دس لاکھ روپے بنی، یہ ایک رقم ہوگئی۔
اس کے بعد جو لوگوں کو ادھار مال دیا ہوا ہے اور جن سے پیسے ملنے کی پکی امید ہے، وہ بھی اس میں شامل کر لیں۔ مثال کے طور پر یہ ملا کر بیس لاکھ ہو گئے۔ پھر اگر گھر میں کچھ نقد رقم موجود ہے یا بینک میں رکھی ہوئی ہے تو وہ بھی شامل کر لی جائے۔ یوں مثال کے طور پر کل رقم تیس لاکھ ہو گئی۔
اب اس مجموعی رقم میں سے وہ رقم منہا کر دی جائے جو آپ کے ذمے واجب الاداء ہے، مثلاً ادھار مال لینا ہے، کسی سے قرض لیا ہوا ہے جو دینا ہے۔ فرض کریں یہ دس لاکھ تھے، تو مائنس کرنے کے بعد بیس لاکھ باقی رہ گئے۔
اب اس باقی رقم (بیس لاکھ) پر ڈھائی فیصد، یعنی 2.5% زکوٰۃ ادا کی جائے گی۔ یہی سامانِ تجارت اور مالِ تجارت کا طریقہ ہے۔
رہی بات مشینری، دکان یا آلات کی، تو ان پر زکوٰۃ نہیں ہوتی۔
مثلاً پرنٹنگ پریس، ایمبرائڈری مشین، لوڈنگ کا سامان، چوکیاں یا مال برداری کے جانور، یہ سب آلاتِ تجارت ہیں۔ آلہ چونکہ خود بیچنے کے لیے نہیں ہوتا بلکہ کاروبار چلانے کے لیے ہوتا ہے، اس لیے آلہ تجارت پر زکوٰۃ نہیں۔
البتہ ان آلات سے جو آمدن یا پروڈکٹ حاصل ہوتی ہے، اگر وہ نصاب کو پہنچ جائے اور سال گزر جائے، تو اس پر زکوٰۃ ادا کی جائے گی۔
فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ
سائل: خواتین کا پہنا ہوا سونا وغیرہ اس پر کیا حکم ہے زکوٰۃ کا اسی طرح اگر کسی کے پاس تین چار تولے سونا ہو اور کچھ پیسے ہوں کیا اس پر بھی زکوٰۃ لگے گی؟
جواب: سونا پہننے والا ہو یا رکھا ہوا ہو اگر ساڑھے سات تولہ ہے تو اس پر زکوٰۃ ہوگی۔ ہر سال زکوٰۃ ہوگی نئی قیمت پر۔
باقی رہ گیا کچھ سونا ہے، کچھ پیسہ ہے، ظاہر سی بات ہے ملائیں گے تو چاندی کی رقم کو کراس کر جائے گا۔ اس صورت میں زکوٰۃ دینا ہوگی۔
فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ
سائل: شیخ محترم ایک بندے کا اپنا مکان ہی نہیں۔ مگر اس کے پاس دو تین لاکھ روپے ہے کیا اس پر زکوٰۃ ہو گی ۔جبکہ وہ اپنے مکان اور دیگر اخراجات کے لیے پیسے جوڑ رہا ہے؟
جواب: دیکھیں اتنے پیسے میں چاندی اگر آ رہی ہے ساڑھے باون تولے، پھر زکوٰۃ ہو گی، اگر چاندی نہیں آ رہی اتنے پیسے میں، پھر زکوٰۃ نہیں ہو گی۔
فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ



