مشینوں کی اسلامی تربیت، عصر حاضر کی اہم ضرورت
عنوان دیکھ کر حیران نہ ہوں اور یہ نہ سوچیں کہ ابھی انسانوں کی تربیت تو ہوئی نہیں اور آپ مشین کی باتیں کرنا شروع ہو گئے ہیں۔
عصر حاضر میں انسانوں کی تربیت کے لیے مشین کی تربیت اور مشین کی تربیت کے لیے انسانوں کی تربیت لازم و ملزوم ہو گئے ہیں، آئیں آگے بڑھتے ہیں۔
مشین سے میری مراد اے آئی ٹولز ہیں، جنہیں لوگ اندھا دھند استعمال کر رہے ہیں، لہذا اس وقت اشد ضرورت ہے کہ انہیں الف سے لیکر ی تک اس طرح تربیت دی جائے، جس طرح ہم کسی بچے کو ناظرہ سے لیکر بخاری کلاس تک پڑھاتے ہیں۔
اس وقت جتنے بھی ٹولز موجود ہیں، وہ اسلامی بحث و تحقیق کی ضرورت کو پورا نہیں کرتے، کیونکہ ہمیں اسلامی تراث پر ٹرینڈ ماڈل کی ضرورت ہے.. اس کے علاوہ جتنا مرضی انٹیلیجنٹ اور ایفیشنٹ ماڈل بنالیں وہ درست رزلٹس نہیں دے سکتے.
اے آئی سے پہلے سب سے بڑا ڈیجیٹل کام مکتبہ شاملہ تھا، اب کارنامہ یہ ہو گا کہ کسی اے آئی ماڈل کو مکتبہ شاملہ پر ٹرین کردیا جائے تاکہ وہ بالکل اسی طرح ریسپانڈ کرے، جس طرح مکتبہ شاملہ کی تمام کتابیں حفظ کرنے والا انسان کرسکتا ہے، یہ کام کسی انگریز کے بس کی بات نہیں، مسلمانوں کو ہی کرنا ہو گا۔
فی الحال جتنے اسلامک ٹولز ہیں وہ در حقیقت اسلامی تراث پر تربیت یافتہ نہیں، بلکہ ان کے پیچھے انگریزوں کے ٹولز کی بنائی ہوئی اے پی آئز ہیں.
دعوت اسلامی کا پچھلے دنوں کافی غلغلہ رہا، اسی طرح مولانا مودودی وغیرہ کے لٹریچر کو سامنے رکھ کر بنائی گئی ایک ویب سائٹ نظر سے گزری تھی، اسی طرح اسلام، حدیث، دعوت، تربیت وغیرہ کے عنوان سے مختلف ٹولز بنے ہوئے ہیں لیکن ان سب کے پیچھے چیٹ جی پی ٹی، جیمینائی وغیرہ کی اے پی آئز ہیں.. بالفاظ دیگر اس قسم کے اے آئی ٹولز مسلمان محققین نہیں بلکہ انگریزوں کے بچے ہیں، جن کے سر پر عمامہ اور ٹوپیاں رکھ دی گئی ہیں…
تو بھائی جس طرح آپ بچوں کو پڑھا لکھا کر فارغ التحصیل کرکے ان کی دستار بندی کرتے ہیں، اسی طرح اب مشینوں کو بھی مدارس میں داخلہ دیں، یقین مانیں یہ آپ کو نالائق بچوں سے اچھے رزلٹس دیں گی…!
تحقیق و تصنیف کتابی شکل میں بڑا بابرکت کام ہے.. لیکن اب حالات کے ساتھ ساتھ ہمارے مدارس، تحقیقی سنٹرز، علمی معاہد میں اساتذہ اور طلبہ کو ایجوکیٹ کیا جائے کہ وہ جدید ٹولز کو بحث و تحقیق کے لیے استعمال بھی کریں اور ان کے اندر صلاحیت بھی ہو کہ وہ جدید فارمیٹس میں اپنی تحقیق کو پیش بھی کر سکیں.
یہ کام فرد واحد کا نہیں، اداروں کو اس طرف متوجہ ہونے کی ضرورت ہے.
تخصص کی کلاس میں اگر دس بیس طلبہ ہیں، ان کو دو چار ایسے اساتذہ میسر آ جائیں، جو انہیں پہلے دن سے ان ٹولز کی تربیت دینا شروع کر دیں تو بہت خیر برآمد ہو سکتی ہے۔
جس طرح اداروں میں دیگر فنی اور تکنیکی لوگ ہائر کیے جاتے ہیں، اسی طرح آئی ٹی انجینئرز کو بھی رکھا جائے… چند افراد کی مدد سے دو چار سو افراد کا رخ اس طرف کیا جا سکتا ہے۔
دینی لوگوں کے لیے آسامیاں کم ہونے کا مسئلہ بھی حل ہو جائے گا.
#خیال_خاطر
یہ بھی پڑھیں:سعودی عرب میں مدینہ یونیورسٹی کا علوم القرآن کا نصاب




