سوال    6639

شعبان المعظم قمری کیلنڈر کا آٹھواں مہینہ ہے جو رجب اور رمضان کے درمیان آتا ہے۔ اس مہینے میں لوگوں کے اعمال اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش کیے جاتے ہیں۔
ماہ شعبان اور روزے
شعبان وہ مہینہ ہے جس میں رسول اللہ ﷺ نے رمضان کے بعد سب سے زیادہ روزے رکھے۔ حضرت اسامہ بن زید بیان فرماتے ہیں:
میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں نے آپ کو کسی مہینہ میں روزہ رکھتے نہیں دیکھا اور نہ آپ شعبان میں روزہ رکھتے ہیں۔ رجب اور رمضان وہ مہینہ ہے جس میں اعمال رب العالمین کی طرف اٹھائے جاتے ہیں اس لیے مجھے یہ پسند ہے کہ میرے اعمال اٹھائے جائیں اور میں روزے سے ہوں۔ اس نے عرض کیا یا رسول اللہ میں نے آپ کو مکہ بھیجا سوائے شعبان کے میں نے کسی کو اتنے روزے رکھتے ہوئے نہیں دیکھا۔ آپ نے فرمایا: “رجب اور رمضان کے درمیان یہ وہ مہینہ ہے جس کی فضیلت سے لوگ بے خبر ہیں، یہ وہ مہینہ ہے جس میں اعمال رب العالمین کے سامنے پیش کیے جاتے ہیں، اس لیے مجھے یہ پسند ہے کہ جب میرے اعمال پیش کیے جائیں تو میں روزے کی حالت میں ہوں۔”
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ شعبان کے پورے مہینے میں اعمال اللہ تعالی کے سامنے پیش کیے جاتے ہیں۔ اس کے لیے کسی ایک دن کو مخصوص کرنا صحیح نہیں ہے۔
ام المؤمنین حضرت ام سلمہ فرماتی ہیں:
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو شعبان اور رمضان کے علاوہ دو مہینے لگاتار روزے رکھتے نہیں دیکھا۔ ام المومنین حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت تک روزہ رکھتے تھے جب تک کہ ہم افطار نہ کرنے کو کہتے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم افطار کرتے جب تک کہ ہم روزہ نہ چھوڑ دیں۔ سوائے رمضان کے اور جو میں نے زیادہ دیکھا ہے۔
اس کی طرف سے شعبان میں روزہ رکھنا (صحیح البخاری)
رسول اللہ ﷺ روزے رکھتے چلے جاتے یہاں تک کہ ہم کہتے آپ روزہ رکھنا نہ چھوڑیں گے اور آپ روزے چھوڑتے چلے جاتے یہاں تک کہ ہم کہتے کہ آپ کبھی روزہ نہ رکھیں گے۔ میں نے رسول اللہ ﷺ کو رمضان کے علاوہ کسی ماہ کے مکمل روزے رکھتے نہیں دیکھا اور میں نے آپ کو شعبان کے علاوہ کسی مہینے میں کثرت سے روزے رکھتے نہیں دیکھا۔“
ان احادیث سے ماہ شعبان میں کثرت سے روزے رکھنے کی اہمیت کا علم ہوتا ہے ۔ تاہم پورے شعبان کے روزے صرف نبی ا کے ساتھ ہی مختص تھے، جبکہ امت کو نصف شعبان کے بعد عمومی طور پر روزہ رکھنے سے منع کیا گیا ہے۔ البتہ وہ افراد اس سے مستثنیٰ ہیں جو ایام بیض یا پیر اور جمعرات کے روزے رکھتے ہوں یا گزشتہ رمضان کے قضا روزے رکھنا چاہتے ہوں۔
السلام علیکم محترم شیخ! کیا یہ احادیث سندا صحیح ہیں؟

جواب

وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ!
اس روایت کو معاصر محققین سے شیخ البانی رحمه الله تعالى ،شیخ زبير على زئى رحمه الله تعالى ،شیخ شعیب الأرنووط وغیرہ نے حسن قرار دیا ہے۔
مگر جہاں تک میری تحقیق وفھم ہے وہ کہتا ہے کہ اس روایت کو حسن قرار دینا محل نظر ہے۔
کیونکہ ثابت بن قیس أبو الغصن راوی صدوق تو ہے مگر
حافظ وضابط نہیں تھا اور اوپر سے قلیل الحدیث بھی ہے۔
امام ابن حبان نے الثقات میں ذکر کرنے کے باوجودِ اس کے ضبط وحفظ کے بارے میں یوں خبر دی ہے۔

ﻭﻛﺎﻥ ﻗﻠﻴﻞ اﻟﺤﺪﻳﺚ ﻛﺜﻴﺮ اﻟﻮﻫﻢ ﻓﻴﻤﺎ ﻳﺮﻭﻳﻪ ﻻ ﻳﺤﺘﺞ ﺑﺨﺒﺮﻩ ﺇﺫا ﻟﻢ ﻳﺘﺎﺑﻌﻪ ﻏﻴﺮﻩ ﻋﻠﻴﻪ
المجروحین لابن حبان :(167)

امام ابن حبان کی جرح مفسر ہے اور قابل غور ہے کہ اس نے جو کچھ بیان کیا ہے اس میں یہ کثرت اوھام کا شکار ہوا
اور جب تک اس کی خبر پر کوئی ثقہ حافظ راوی متابعت نہ کر دے تو تب تک اس کی خبر سے احتجاج نہیں کیا جائے گا۔
امام ابن عدی نے کہا:

ﻭﻫﻮ ﻣﻤﻦ ﻳﻜﺘﺐ ﺣﺪﻳﺜﻪ
الکامل لابن عدی :2/ 293

یہ کلام بھی اس کی روایت کے قبول نہ کیے جانے پر دلالت کرتی ہے
امام حاکم نے کہا:

ﻟﻴﺲ ﺑﺤﺎﻓﻆ ﻭﻻ ﺿﺎﺑﻂ
سؤالات السجزي للحاكم :(75) ،إكمال تهذيب الكمال :3/ 83

امام بزار نے کہا:

ﻭﻟﻢ ﻳﻜﻦ ﺃﺑﻮ اﻟﻐﺼﻦ ﺣﺎﻓﻈﺎ
کشف الأستار عن زوائد البزار :(1946)

مغلطائی نقل کرتے ہیں:

ﻭﺫﻛﺮﻩ ﺃﺑﻮ اﻟﻌﺮﺏ، ﻭاﻟﻌﻘﻴﻠﻲ، ﻭﺃﺑﻮ اﻟﻘﺎﺳﻢ اﻟﺒﻠﺨﻲ، ﻭاﻟﺴﺎﺟﻲ ﻓﻲ ﺟﻤﻠﺔ اﻟﻀﻌﻔﺎء
إكمال تهذيب الكمال :3/ 83

یعنی حافظ وضابط نہ ہونے کی وجہ سے یہ روایت حدیث میں تفرد کے سبب ضعیف ہے۔
امام یحیی بن معین سے تضعیف والا قول راجح معلوم ہوتا ہے۔
یا ضعیف کہنے سے ان کی مراد غیر ضابط بتانا ہے۔
تو اس طرح کے راوی کی روایت اس طرح کے مسئلہ میں
تفرد کی صورت میں قابل قبول نہیں ہے ہاں کوئی ثقہ حافظ راوی متابعت کر دے تو تب ایسے راوی کی روایت قبول کی جائے گی۔
اسی طرح یہ روایت ثقات کی بیان کردہ روایت کے مخالف ہے جس میں ہر سوموار اور جمعرات کو اعمال پیش ہونے کا ذکر ہے۔

ﺣﺪﺛﻨﺎ ﻗﺘﻴﺒﺔ ﺑﻦ ﺳﻌﻴﺪ، ﻋﻦ ﻣﺎﻟﻚ ﺑﻦ ﺃﻧﺲ، ﻓﻴﻤﺎ ﻗﺮﺉ ﻋﻠﻴﻪ، ﻋﻦ ﺳﻬﻴﻞ، ﻋﻦ ﺃﺑﻴﻪ، ﻋﻦ ﺃﺑﻲ ﻫﺮﻳﺮﺓ، ﺃﻥ ﺭﺳﻮﻝ اﻟﻠﻪ ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ، ﻗﺎﻝ: ﺗﻔﺘﺢ ﺃﺑﻮاﺏ اﻟﺠﻨﺔ ﻳﻮﻡ اﻹﺛﻨﻴﻦ، ﻭﻳﻮﻡ اﻟﺨﻤﻴﺲ، ﻓﻴﻐﻔﺮ ﻟﻜﻞ ﻋﺒﺪ ﻻ ﻳﺸﺮﻙ ﺑﺎﻟﻠﻪ ﺷﻴﺌﺎ، ﺇﻻ ﺭﺟﻼ ﻛﺎﻧﺖ ﺑﻴﻨﻪ ﻭﺑﻴﻦ ﺃﺧﻴﻪ ﺷﺤﻨﺎء، ﻓﻴﻘﺎﻝ: ﺃﻧﻈﺮﻭا ﻫﺬﻳﻦ ﺣﺘﻰ ﻳﺼﻄﻠﺤﺎ، ﺃﻧﻈﺮﻭا ﻫﺬﻳﻦ ﺣﺘﻰ ﻳﺼﻄﻠﺤﺎ، ﺃﻧﻈﺮﻭا ﻫﺬﻳﻦ ﺣﺘﻰ ﻳﺼﻄﻠﺤﺎ
صحیح مسلم :35/ (2565)،موطا امام مالک:2/ 908 ،909
ﺣﺪﺛﻨﺎ اﺑﻦ ﺃﺑﻲ ﻋﻤﺮ، ﺣﺪﺛﻨﺎ ﺳﻔﻴﺎﻥ، ﻋﻦ ﻣﺴﻠﻢ ﺑﻦ ﺃﺑﻲ ﻣﺮﻳﻢ، ﻋﻦ ﺃﺑﻲ ﺻﺎﻟﺢ، ﺳﻤﻊ ﺃﺑﺎ ﻫﺮﻳﺮﺓ، ﺭﻓﻌﻪ ﻣﺮﺓ ﻗﺎﻝ: ﺗﻌﺮﺽ اﻷﻋﻤﺎﻝ ﻓﻲ ﻛﻞ ﻳﻮﻡ ﺧﻤﻴﺲ ﻭاﺛﻨﻴﻦ، ﻓﻴﻐﻔﺮ اﻟﻠﻪ ﻋﺰ ﻭﺟﻞ ﻓﻲ ﺫﻟﻚ اﻝﻳﻮﻡ، ﻟﻜﻞ اﻣﺮﺉ ﻻ ﻳﺸﺮﻙ ﺑﺎﻟﻠﻪ ﺷﻴﺌﺎ، ﺇﻻ اﻣﺮﺃ ﻛﺎﻧﺖ ﺑﻴﻨﻪ ﻭﺑﻴﻦ ﺃﺧﻴﻪ ﺷﺤﻨﺎء، ﻓﻴﻘﺎﻝ: اﺭﻛﻮا ﻫﺬﻳﻦ ﺣﺘﻰ ﻳﺼﻄﻠﺤﺎ، اﺭﻛﻮا ﻫﺬﻳﻦ ﺣﺘﻰ ﻳﺼﻄﻠﺤﺎ
صحیح مسلم :36/ (2565)
ﺣﺪﺛﻨﺎ ﺃﺑﻮ اﻟﻄﺎﻫﺮ، ﻭﻋﻤﺮﻭ ﺑﻦ ﺳﻮاﺩ، ﻗﺎﻻ: ﺃﺧﺒﺮﻧﺎ اﺑﻦ ﻭﻫﺐ، ﺃﺧﺒﺮﻧﺎ ﻣﺎﻟﻚ ﺑﻦ ﺃﻧﺲ، ﻋﻦ ﻣﺴﻠﻢ ﺑﻦ ﺃﺑﻲ ﻣﺮﻳﻢ، ﻋﻦ ﺃﺑﻲ ﺻﺎﻟﺢ، ﻋﻦ ﺃﺑﻲ ﻫﺮﻳﺮﺓ، ﻋﻦ ﺭﺳﻮﻝ اﻟﻠﻪ ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ ﻗﺎﻝ: ” ﺗﻌﺮﺽ ﺃﻋﻤﺎﻝ اﻟﻨﺎﺱ ﻓﻲ ﻛﻞ ﺟﻤﻌﺔ ﻣﺮﺗﻴﻦ، ﻳﻮﻡ اﻻﺛﻨﻴﻦ ﻭﻳﻮﻡ اﻟﺨﻤﻴﺲ، ﻓﻴﻐﻔﺮ ﻟﻜﻞ ﻋﺒﺪ ﻣﺆﻣﻦ، ﺇﻻ ﻋﺒﺪا ﺑﻴﻨﻪ ﻭﺑﻴﻦ ﺃﺧﻴﻪ ﺷﺤﻨﺎء، ﻓﻴﻘﺎﻝ: اﺗﺮﻛﻮا، ﺃﻭ اﺭﻛﻮا، ﻫﺬﻳﻦ ﺣﺘﻰ ﻳﻔﻴﺌﺎ
صحیح مسلم :36/ (2565)،الجامع لابن وهب:(271) ،صحيح ابن خزیمہ:(2120)

یہ حدیث کئ طرق سے کتب احادیث میں موجود ہے۔

رہی دوسری احادیث جن میں شعبان کے مہینے میں نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے کثرت سے روزے رکھنے کا ذکر ہے تو وہ صحیح ہیں اور یہ جان لیں کہ شعبان میں کثرت سے روزے رکھنا مراد ہے یہ نہیں کہ مکمل مہینے کے روزے رکھتے تھے احادیث الباب سے یہی راجح معلوم ہوتا ہے۔ هذا ما عندي والله أعلم بالصواب

فضیلۃ العالم ابو انس طیبی حفظہ اللہ