سوال (6611)
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
حدیثِ کے مطابق رشوت دینے اور لینے والا دونوں جہنمی ہیں۔ تو بعض اوقات کچھ کام ایسے ہوتے ہیں، جس میں انسان کا حق بھی ہوتا ہے اور وہ کام ہو بھی جاتا ہے لیکن جب تک ان کو رشوت نہ دو تب تک اگلا وہ کام نہیں کرتا اسی طرح کچھ کام ہوتے ہی ایسے ہیں جو رشوت کے بغیر نہیں کیے جا سکتے تو پھر اس صورت حال میں کیا کیا جائے۔ رہنمائی فرما دیجیۓ۔
جزاک اللہ خیرا کثیرا و جزاء فی الدنیا والآخرۃ
جواب
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔
یہ بات سو فیصد درست ہے کہ رشوت لینے والا اور رشوت دینے والا دونوں دوزخی ہیں، لیکن بعض اوقات انسان کو ایسے فاسد نظام میں جکڑ دیا جاتا ہے جہاں جائز حق بھی رشوت کے بغیر نہیں ملتا۔ کام جائز ہے، انسان اس کا حق دار ہے، نہ کسی کا حق مارا جا رہا ہے اور نہ کسی کو نقصان پہنچتا ہے، اس کے باوجود آدمی رشوت دینا نہیں چاہتا مگر مجبور کر دیا جاتا ہے۔
ایسی صورت میں اصل گناہ رشوت لینے والے پر ہوگا، کیونکہ وہ ناجائز مطالبہ کر رہا ہے۔ دینے والا مجبوری کے تحت دے رہا ہے، اس پر ان شاء اللہ گناہ نہیں ہوگا، البتہ دل میں نفرت، اللہ کا خوف اور توبہ و استغفار ہونا چاہیے۔
بعض اہلِ علم یہ بھی فرماتے ہیں کہ اگر کسی کے پاس سود یا کسی اور ناجائز ذریعے کا پیسہ موجود ہو تو ایسے حالات میں وہی پیسہ استعمال کرنا زیادہ بہتر ہے، تاکہ حرام مال حرام کام میں چلا جائے۔ اور اگر ایسا مال موجود نہ ہو، تو بھی آدمی اپنے جائز حق کے حصول کے لیے ان ظالموں کو دینے پر مجبور ہو جائے، تو گناہ لینے والے پر ہوگا، دینے والے پر نہیں، ان شاء اللہ۔
فضیلۃ الشیخ عبد الرزاق زاہد حفظہ اللہ
آپ کی بات کی بھرپور تائید کے ساتھ اتنا اضافہ کیا جا سکتا ہے کہ لغوی اعتبار سے یہ عمل اگرچہ رشوت ہی کہلاتا ہے، لیکن اصطلاحی اور شرعی اعتبار سے ہر جگہ اسے رشوت شمار نہیں کیا گیا۔ شرعاً رشوت وہ ہوتی ہے جس کے ذریعے کوئی شخص میرٹ کے بغیر کام حاصل کرے، کسی کا حق دبائے، جھوٹی ڈگری یا جعلی دستاویز بنوائے، یا محض پیسے کی بنیاد پر ظلم اور ناانصافی کرے۔ یہی وہ رشوت ہے جو حرام ہے اور جس پر سخت وعید آئی ہے۔
البتہ یہاں صورتِ حال مختلف ہے۔ بندہ میرٹ پر موجود ہے، باصلاحیت ہے، اس کے پاس اسناد، شہادتیں اور ڈگریاں موجود ہیں، لیکن اسے ایسے نظام میں الجھا دیا گیا ہے کہ بالکل جائز اور قانونی کام بھی سیدھے طریقے سے نہیں ہو پاتے، حتیٰ کہ شناختی کارڈ بنوانا ہو تو بھی مشکلات کھڑی کر دی جاتی ہیں۔ یہ درحقیقت حالات کا جبر ہے۔
ایسی صورت میں ذمہ داری اصل میں لینے والے پر ہوتی ہے۔ دینے والا اگرچہ لغوی طور پر رشوت دے رہا ہوتا ہے، لیکن اصطلاحی اور فقہی اعتبار سے اس پر رشوت کا فتویٰ لازم نہیں آتا، کیونکہ وہ نہ کسی کا حق مار رہا ہے اور نہ ناجائز فائدہ اٹھا رہا ہے، بلکہ اپنے جائز حق کے حصول پر مجبور ہے۔
فضیلۃ الشیخ عبدالوکیل ناصر حفظہ اللہ
وعليكم السلام ورحمة الله وبركاته
شیخ صاحب ایک نیک سیرت صحیح العقیدہ باعمل مسلمان کے پاس سود کا پیسہ کیونکر ہوگا۔
راجح یہی ہے کہ اپنے حق کے حصول کے لئے اس نظام میں رقم دینا وہ رشوت نہیں کہلائے گی جس پر حدیث میں لعنت وارد ہوئی ہے۔
شرح السنة للبغوي میں ہے۔
اﻟﺮﺷﻮﺓ: ﻣﺎ ﻳﻌﻄﻰ ﻹﺑﻄﺎﻝ ﺣﻖ، ﺃﻭ ﻹﺣﻘﺎﻕ ﺑﺎﻃﻞ، ﻓﻴﻌﻄﻲ اﻟﺮاﺷﻲ ﻟﻴﻨﺎﻝ ﺑﺎﻃﻼ، ﺃﻭ ﻟﻴﻤﻨﻊ ﺣﻘﺎ ﻳﻠﺰﻣﻪ، ﻭﻳﺄﺧﺬ اﻵﺧﺬ ﻋﻠﻰ ﺃﺩاء ﺣﻖ ﻳﻠﺰﻣﻪ، ﻓﻼ ﻳﺆﺩﻳﻪ ﺇﻻ ﺑﺮﺷﻮﺓ ﻳﺄﺧﺬ، ﺃﻭ ﻋﻠﻰ ﺑﺎﻃﻞ ﻳﺠﺐ ﻋﻠﻴﻪ ﺗﺮﻛﻪ، ﻭﻻ ﻳﺘﺮﻛﻪ ﺇﻻ ﺑﻬﺎ، ﻓﺄﻣﺎ ﺇﺫا ﺃﻋﻄﻰ اﻟﻤﻌﻄﻲ ﻟﻴﺘﻮﺻﻞ ﺑﻪ ﺇﻟﻰ ﺣﻖ، ﺃﻭ ﻳﺪﻓﻊ ﻋﻦ ﻧﻔﺴﻪ ﻇﻠﻤﺎ، ﻓﻼ ﺑﺄﺱ شرح السنة للبغوي :10/ 88 معالم السنن :4/ 161 میں ہے،
اﻟﺮاﺷﻲ اﻟﻤﻌﻄﻲ، ﻭاﻟﻤﺮﺗﺸﻲ اﻵﺧﺬ، ﻭﺇﻧﻤﺎ ﻳﻠﺤﻘﻬﻤﺎ اﻟﻌﻘﻮﺑﺔ ﻣﻌﺎ ﺇﺫا اﺳﺘﻮﻳﺎ ﻓﻲ اﻟﻘﺼﺪ ﻭاﻹﺭاﺩﺓ ﻓﺮﺷﺎ اﻟﻤﻌﻄﻲ ﻟﻴﻨﺎﻝ ﺑﻪ ﺑﺎﻃﻼ ﻭﻳﺘﻮﺻﻞ ﺑﻪ ﺇﻟﻰ ﻇﻠﻢ، ﻓﺄﻣﺎ ﺇﺫا ﺃﻋﻄﻰ ﻟﻴﺘﻮﺻﻞ ﺑﻪ ﺇﻟﻰ ﺣﻖ ﺃﻭ ﻳﺪﻓﻊ ﻋﻦ ﻧﻔﺴﻪ ﻇﻠﻤﺎ ﻓﺈﻧﻪ ﻏﻴﺮ ﺩاﺧﻞ ﻓﻲ ﻫﺬا اﻟﻮﻋﻴﺪ۔
مزید الشیخ محمد صالح المنجد کے اشراف میں الإسلام سؤال وجواب میں دئیے گئے ایک جواب کو ملاحظہ کریں۔
السؤال: لي أعمال مع بعض الدوائر الحكومية ، وإذا لم يأخذ الموظف رشوة فإنه يعطل أعمالي ، فهل يجوز لي أن أعطيه رشوة؟.
الجواب: الحمد لله والصلاة والسلام على رسول الله، وبعد:
أولاً: الرشوة من كبائر الذنوب، لما رواه أحمد (6791) وأبو داود (3580)
عن عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رضي الله عنهما قَالَ : لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الرَّاشِي وَالْمُرْتَشِي۔ صححه الألباني في “إرواء الغليل” (2621).
و”الراشي” هو معطي الرشوة، و”المرتشي” هو آخذها.
فإذا استطعت إنهاء أعمالك من غير دفع للرشوة حرم عليه دفعها.
ثانياً: إذا لم يستطع صاحب الحق أخذ حقه إلا بدفع رشوة فقد نص العلماء رحمهم الله على جواز دفعه للرشوة حينئذ ويكون التحريم على الآخذ لها لا المعطي ، واستدلوا بما رواه أحمد (10739) عن عمر بن الخطاب رضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال : ( إِنَّ أَحَدَهُمْ لَيَسْأَلُنِي الْمَسْأَلَةَ فَأُعْطِيهَا إِيَّاهُ فَيَخْرُجُ بِهَا مُتَأَبِّطُهَا ، وَمَا هِيَ لَهُمْ إِلا نَارٌ ، قَالَ عُمَرُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَلِمَ تُعْطِيهِمْ ؟ قَالَ: إِنَّهُمْ يَأْبَوْنَ إِلا أَنْ يَسْأَلُونِي ، وَيَأْبَى اللَّهُ لِي الْبُخْلَ ) صححه الألباني في صحيح الترغيب (844) .
فكان النبي صلى الله عليه وسلم يعطي هؤلاء المال مع أنه حرام عليهم، حتى يدفع عن نفسه مذمة البخل.
قال شيخ الإسلام ابن تيمية رحمه الله:” فأما إذا أهدى له هدية ليكف ظلمه عنه أو ليعطيه حقه الواجب كانت هذه الهدية حراما على الآخذ , وجاز للدافع أن يدفعها إليه, كما كان النبي صلى الله عليه وسلم يقول: ( إني لأعطي أحدهم العطية …الحديث )” انتهى من “الفتاوى الكبرى” (4/174).
وقال أيضا:
“قَالَ الْعُلَمَاءُ: يَجُوزُ رِشْوَةُ الْعَامِلِ لِدَفْعِ الظُّلْمِ لا لِمَنْعِ الْحَقِّ ، وَإِرْشَاؤُهُ حَرَامٌ فِيهِمَا ( يعني : أخذه للرشوة حرام ) . . .
وَمِنْ ذَلِكَ : لَوْ أَعْطَى الرَّجُلُ شَاعِرًا أَوْ غَيْرَ شَاعِرٍ ; لِئَلا يَكْذِبَ عَلَيْهِ بِهَجْوٍ أَوْ غَيْرِهِ، أَوْ لِئَلا يَقُولَ فِي عِرْضِهِ مَا يَحْرُمُ عَلَيْهِ قَوْلُهُ كَانَ بَذْلُهُ لِذَلِكَ جَائِزًا وَكَانَ مَا أَخَذَهُ ذَلِكَ لِئَلا يَظْلِمَهُ حَرَامًا عَلَيْهِ ; لأَنَّهُ يَجِبُ عَلَيْهِ تَرْكُ ظُلْمِهِ . . .
فَكُلُّ مَنْ أَخَذَ الْمَالَ لِئَلا يَكْذِبَ عَلَى النَّاسِ أَوْ لِئَلا يَظْلِمَهُمْ كَانَ ذَلِكَ خَبِيثًا سُحْتًا ; لأَنَّ الظُّلْمَ وَالْكَذِبَ حَرَامٌ عَلَيْهِ فَعَلَيْهِ أَنْ يَتْرُكَهُ بِلا عِوَضٍ يَأْخُذُهُ مِنْ الْمَظْلُومِ فَإِذَا لَمْ يَتْرُكْهُ إلا بِالْعِوَضِ كَانَ سُحْتًا ” انتهى باختصار.
“مجموع الفتاوى” (29/252).
وقال أيضا: (31/278):
” قَالَ الْعُلَمَاءُ: إنَّ مَنْ أَهْدَى هَدِيَّةً لِوَلِيِّ أَمْرٍ لِيَفْعَلَ مَعَهُ مَا لا يَجُوزُ كَانَ حَرَامًا عَلَى الْمَهْدِيِّ وَالْمُهْدَى إلَيْهِ . وَهَذِهِ مِنْ الرَّشْوَةِ الَّتِي قَالَ فِيهَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم : ( لَعَنَ اللَّهُ الرَّاشِي وَالْمُرْتَشِي ) .
فَأَمَّا إذَا أَهْدَى لَهُ هَدِيَّةً لِيَكُفَّ ظُلْمَهُ عَنْهُ أَوْ لِيُعْطِيَهُ حَقَّهُ الْوَاجِبَ : كَانَتْ هَذِهِ الْهَدِيَّةُ حَرَامًا عَلَى الآخِذِ وَجَازَ لِلدَّافِعِ أَنْ يَدْفَعَهَا إلَيْهِ كَمَا ، كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ : ( إنِّي لأُعْطِي أَحَدَهُمْ الْعَطِيَّةَ فَيَخْرُجُ بِهَا يَتَأَبَّطُهَا نَارًا . قِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ فَلِمَ تُعْطِيهِمْ ، قَالَ : يَأْبَوْنَ إلا أَنْ يَسْأَلُونِي، وَيَأْبَى اللَّهُ لِي الْبُخْلَ ).
وَمِثْلُ ذَلِكَ: إعْطَاءُ مَنْ كَانَ ظَالِمًا لِلنَّاسِ، فَإِعْطَاءُه جَائِزٌ لِلْمُعْطِي، حَرَامٌ عَلَيْهِ أَخْذُهُ.
وَأَمَّا الْهَدِيَّةُ فِي الشَّفَاعَةِ: مِثْلُ أَنْ يَشْفَعَ لِرَجُلِ عِنْدَ وَلِيِّ أَمْرٍ لِيَرْفَعَ عَنْهُ مَظْلِمَةً أَوْ يُوَصِّلَ إلَيْهِ حَقَّهُ أَوْ يُوَلِّيَهُ وِلَايَةً يَسْتَحِقُّهَا أَوْ يَسْتَخْدِمُهُ فِي الْجُنْدِ الْمُقَاتِلَةِ – وَهُوَ مُسْتَحِقٌّ لِذَلِكَ – أَوْ يُعْطِيَهُ مِنْ الْمَالِ الْمَوْقُوفِ عَلَى الْفُقَرَاءِ أَوْ الْفُقَهَاءِ أَوْ الْقُرَّاءِ أَوْ النُّسَّاكِ أَوْ غَيْرِهِمْ وَهُوَ مِنْ أَهْلِ الِاسْتِحْقَاقِ . وَنَحْوَ هَذِهِ الشَّفَاعَةِ الَّتِي فِيهَا إعَانَةٌ عَلَى فِعْلٍ وَاجِبٍ أَوْ تَرْكُ مُحَرَّمٍ : فَهَذِهِ أَيْضًا لا يَجُوزُ فِيهَا قَبُولُ الْهَدِيَّةِ وَيَجُوزُ لِلْمهْدِي أَنْ يَبْذُلَ فِي ذَلِكَ مَا يَتَوَصَّلُ بِهِ إلَى أَخْذِ حَقِّهِ أَوْ دَفْعِ الظُّلْمِ عَنْهُ . هَذَا هُوَ الْمَنْقُولُ عَنْ السَّلَفِ وَالأَئِمَّةِ الأَكَابِرِ” انتهى بتصرف يسير.
وقال تقي الدين السبكي رحمه الله: ” والمراد بالرشوة التي ذكرناها ما يعطى لدفع حق أو لتحصيل باطل، وإن أعطيت للتوصل إلى الحكم بحق فالتحريم على من يأخذها, وأما من يعطيها فإن لم يقدر على الوصول إلى حقه إلا بذلك جاز، وإن قدر إلى الوصول إليه بدونه لم يجز” “فتاوى السبكي” (1/204).
وقال السيوطي في “الأشباه والنظائر” (ص 150):
“القاعدة السابعة والعشرون : ( ما حرم أخذه حرم إعطاؤه ) كالربا، ومهر البغي , وحلوان الكاهن والرشوة , وأجرة النائحة والزامر .
ويستثنى صور : منها : الرشوة للحاكم , ليصل إلى حقه, وفك الأسير ، وإعطاء شيء لمن يخاف هجوه ” انتهى .
و”حلوان الكاهن” : ما يأخذه الكاهن مقابل كهانته .
وقال الحموي (حنفي ) في “غمز عيون البصائر” :
” القاعدة الرابعة عشرة : ( ما حرم أخذه حرم إعطاؤه ) كالربا، ومهر البغي، وحلوان الكاهن، والرشوة، وأجرة النائحة والزامر, إلا في مسائل:
1- الرشوة لخوفٍ على ماله أو نفسه .
وهذا في جانب الدافع أما في جانب المدفوع له فحرام ” انتهى بتصرف .
وجاء في “الموسوعة الفقهية” :
“وفي “الأشباه” لابن نجيم (حنفي), ومثله في “المنثور” للزركشي (شافعي): ما حرم أخذه حرم إعطاؤه , كالربا ومهر البغي وحلوان الكاهن والرشوة للحاكم إذا بذلها ليحكم له بغير الحق, إلا في مسائل: في الرشوة لخوفٍ على نفسه أو ماله أو لفك أسير أو لمن يخاف هجوه ” انتهى.
وقال الأستاذ الدكتور وهبة الزحيلي: ” إذا تعينت الرشوة دون غيرها سبيلاً للوصول إلى الغرض جاز الدفع للضرورة ، ويحرم على الآخذ ” انتهى.
والخلاصة: أنه يجوز لك دفع الرشوة ويكون التحريم على الموظف الذي يأخذها ، لكن بشرطين:
1- أن تدفعها لتأخذ حقك أو لتدفع بها الظلم عن نفسك ، أما إذا كنت تدفعها لتأخذ ما لا تستحق فهي حرام، ومن كبائر الذنوب.
2- ألا يكون هناك وسيلة أخرى لأخذ حقك أو دفع الظلم عنك إلا بهذه الرشوة .والله أعلم.
المصدر: الإسلام سؤال وجواب
بارک اللہ فیکم جمیعا وعافاکم ورفع درجاتکم
فضیلتہ العالم ابو انس طیبی حفظہ اللہ
جی بالکل، میں یہ نہیں کہہ رہا کہ اس شخص کے پاس لازماً اپنا سود کا پیسہ ہو۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ آپ جیسے مشائخ کے پاس لوگ آتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمارے پاس سود کی رقم موجود ہے، اور ہمیں معلوم نہیں کہ اس کا کیا کیا جائے، اب یہ آپ جانیں اور آپ کا کام جانیں۔
ایسی صورتِ حال میں وہ سود کی رقم بعض اوقات انہی مجبوری کے حالات میں استعمال کی جاتی ہے۔ میرا خیال ہے کہ ان شاء اللہ اس وضاحت سے بات واضح ہو گئی ہوگی اور مقصد بھی سمجھ میں آ گیا ہوگا۔
فضیلۃ الشیخ عبدالرزاق زاہد حفظہ اللہ




