سوال (5983)
ایک شخص نے مکئی کاشت کی ہے جانوروں کے چارے کیلئے چار ایکڑ کیا اس پر بھی عشر ہوگا؟ راہنمائی فرما دیں۔
جواب
چارے پر زکاۃ نہیں ہے، باقی مکئی دانوں والی فصل ہے، اگر یہ پک کر نصاب کو پہنچ جاتی ہے، پھر اس پر عشر ہے، اگر بارانی زمین ہے، تو عشر ہے، اگر آپ خود سیراب ہوتے ہیں تو نصف عشر ہوگا۔
فضیلۃ الشیخ عبد الرزاق زاہد حفظہ اللہ
سائل: عشر کا نصاب کیا ہے؟ ایک بھائی نے صرف ایک ایکڑ پر چاول کی فصل بوئی اور 85 من پیداوار اٹھائی، کیا اس پر عشر ہوگا؟
جواب: 85 من نصاب سے زیادہ ہے، اس پر عشر ہے، اگر آپ نے خود سیراب کیا ہے تو بیسیواں حصہ ہے، اگر بارانی ہے تو پھر دسواں حصہ ہوگا۔
فضیلۃ الشیخ عبد الرزاق زاہد حفظہ اللہ
سائل: ویسے نصاب کیا ہے؟
جواب: 780 کلو گرام یا ساڈھے انیس من بنتا ہے۔
فضیلۃ الشیخ عبد الرزاق زاہد حفظہ اللہ
عشر کا نصاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے 5وسق بیان فرمایا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”لَيْسَ فِيمَا أَقَلُّ مِنْ خَمْسَةِ أَوْسُقٍ صَدَقَةٌ”
(پانچ وسق سے کم پیداوار پر صدقہ، یعنی: عشر نہیں ہے) [صحیح البخاری: 1484] اور ایک وسق 60 صاع کا ہوتا ہے۔ اگرچہ سند قوی نہیں، لیکن ایک روایت اس مقدار کی تائید کرتی ہے۔ [دیکھئے: سنن ابن ماجۃ:1832] اور فضیلۃ شیخ مبشر احمد ربانی رحمہ اللہ نے پانچ وسق کا وزن 20 من بیان کیا ہے۔ لہذا عشر کا نصاب 20 من ہے۔ جب زمینی پیداوار سے 20 من یا اس سے زیادہ اناج حاصل ہو تو اس کا عشر ادا کرنا واجب ہے۔ البتہ بارانی فصل ہونے کی صورت میں عشر (یعنی: پیداوار کا دسواں حصہ) اور محنت و خرچہ سے حاصل شدہ فصل کا نصف عشر (یعنی: بیسواں حصہ) ادا کیا جائے گا۔ جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ
«فِيمَا سَقَتِ السَّمَاءُ وَالعُيُونُ أَوْ كَانَ عَثَرِيًّا العُشْرُ، وَمَا سُقِيَ بِالنَّضْحِ نِصْفُ العُشْرِ» [صحیح البخاری:1483]
(جس کھیتی کو بارش یا چشمے سیراب کریں، اس میں سے عشر، یعنی: دسواں حصہ اور جس کھیتی کو جانوروں یا دوسرے ذرائع سے پانی کھینچ کر سیراب کیا گیا ہو، اس کا نصف عشر، یعنی: بیسواں حصہ ادا کرنا ہوگا)۔
فضیلۃ العالم امان اللہ عاصم حفظہ اللہ
ہمارے علم کے مطابق فتاواجات 18 یا 19 من کے ملتے ہیں، لیکن اس حوالے سے پختہ قول 20 من کا ہے۔
فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ




