سوال 6783
اگر کچھ سونا ہے، کچھ چاندی ہے، یا کچھ سونا ہے، کچھ نقد روپیہ ہے، یا کچھ چاندی ہے، کچھ مالِ تجارت ہے، ان کو ملا کر دیکھا جائے تو ساڑھے باون تولے چاندی کی مالیت بنتی ہے، اس صورت میں زکوٰۃ فرض ہے یا نہیں؟
جواب
شریعت کا اصول زکوٰۃ کے حوالے سے بڑا سادہ اور بڑا منفرد ہے اور وہ اصول یہ ہے کہ مختلف چیزوں کو ملا کر زکوٰۃ نہیں دی جاتی۔ کسی کے پاس تھوڑا سا سونا ہے، تھوڑی سی چاندی ہے، تھوڑے سے روپے ہیں، نہیں! شریعت کہتی ہے سونا الگ چیز ہے، چاندی الگ چیز ہے، روپیہ پیسہ الگ چیز ہے۔ لہذا زکوٰۃ اس حالت میں نہیں ہوگی بلکہ اسی وقت ہوگی جب ہر چیز کا الگ الگ نصاب پورا ہو جائے گا۔ واللہ اعلم۔
فضیلۃ الشیخ عبد الرزاق زاہد حفظہ اللہ
اصول تو یہی ہے کہ سونے کا نصاب الگ ہے، چاندی کا الگ ہے، غلے کا الگ ہے، مالِ تجارت اور کرنسی کا اپنا معاملہ ہے۔
اہلِ علم، بلکہ جمہور اہلِ علم جب مالِ تجارت اور کرنسی کی بات کرتے ہیں تو اسے عموماً چاندی کے نصاب پر فوکس کرتے ہیں۔ یعنی اگر اتنے پیسے ہوں کہ ان سے ساڑھے باون (52.5) تولہ چاندی خریدی جا سکتی ہو تو پھر اس پر زکوٰۃ آ جائے گی۔ گویا پیسے پر زکوٰۃ اسی وقت ہوگی، جب وہ چاندی کے نصاب کے برابر پہنچ جائیں۔
اب مسئلہ یہ ہے کہ اگر ہر چیز تھوڑی تھوڑی ہو کچھ سونا، کچھ چاندی، کچھ نقدی—تو سونا اور چاندی کو براہِ راست ملا دینا دلیل سے ثابت نہیں، اور نہ ہی تمام سلفی علماء کا یہی موقف ہے۔
البتہ آج کل زیادہ تر علماء اس بات کی طرف مائل دکھائی دیتے ہیں کہ سونا یا چاندی کو کرنسی کے ساتھ ملا لیا جائے، کیونکہ کرنسی دراصل سونے یا چاندی ہی کا بدل (substitute) ہے، مستقل اور جداگانہ جنس نہیں۔
لہذا: یا تو سونا اور کرنسی کو جمع کر لیا جائے، یا چاندی اور کرنسی کو ملا لیا جائے۔
اگر ان دونوں کو ملانے کے بعد مجموعی مالیت ساڑھے 52 تولہ چاندی کے برابر ہو جائے تو پھر ڈھائی فیصد زکوٰۃ ادا کرنا لازم ہوگا۔
موجودہ سوال میں ہماری رائے یہ ہے کہ چونکہ سونا بھی موجود ہے، اس کے ساتھ پیسے کو ملا لیا جائے تو غالباً مقدار چاندی کے نصاب کو کراس کر جائے گی۔ اس صورت میں اقربُ النقدین (زیادہ احتیاط والے معیار) کو اختیار کرتے ہوئے زکوٰۃ ادا کر دینی چاہیے۔
فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ
سائل: شیخ اگر کچھ سونا ہے مثلاً آدھا تولہ وہ بن گیا دو لاکھ کا اور کچھ نقدی ہے یعنی یہ دونوں سونا اور نقدی ملا کر 52.5 تولے چاندی کے برابر ہیں تو کیا زکوٰۃ دیں گے؟
یعنی سونے اور نقدی پر چاندی کی زکوٰۃ؟
جواب: میرے علم کے مطابق علماء تقریباً متفق ہوتے جا رہے ہیں اس بات پہ کہ کچھ سونا ہے اور کچھ کرنسی ہے تو اس کو ملا لیں اور زکوٰۃ دے دیں کیونکہ ان دونوں کو ملا کر آپ اقل النصاب یا اقرب النقدین یعنی چاندی کو ٹیلی کر جائیں گے ٹھیک ہے تو زکوٰۃ دے دینی چاہیے، جزاک اللہ۔
فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ
سائل: شیخ اگر کوئی یہ کہے کہ میں نے نصاب سونے کو ہی مقرر کرنا ہے تو اسکے لیے رخصت ہے؟
جواب: رخصت تو وہ اپنے دانست میں بنا رہا ہے، کیونکہ مہنگائی کی وجہ سے سونا کہیں اور پہنچ گیا اور چاندی پیچھے رہ گئی۔ بہرحال، اس کا معاملہ اس کے رب کے ساتھ ہے، ہمارا اختیار نہیں کہ ہم اس سے سختی کے ساتھ کوئی فتویٰ نافذ کریں یا جبراَ زکوٰۃ دلائیں۔ حقیقت یہ ہے کہ سونے کو معیار بنانے والا چاندی کو کراس نہیں کر رہا؟ چاندی کی رقم کو کراس نہیں کر رہا؟ درست ہے، سونا اور چاندی کو ملا کر زکوٰۃ دینا شرعی طور پر لازم نہیں، لیکن اگر کرنسی شامل ہے تو اس صورت میں زکوٰۃ ادا کرنا اس کے حق میں بہتر اور مناسب ہے۔
فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ
پاکستانی کرنسی سونا پر مقرر ہے اگرچہ کہ آج کل کچھ کا کچھ ہو رہا ہے، لیکن قانونا اعلاناً سونا پر ہی ہے۔ سونے کا اگر حساب رکھتا تو کوئی حرج نہیں ہے۔ ان شاء اللہ البتہ عرف کو سامنے رکھے ضرورت کو سامنے رکھے۔ زکوۃ دینے سے مال بڑھنا ہی ہے، ان شاء اللہ جمع کر کے بھی کیا کرے گا، پچھلے لڑیں گے خود حساب دے گا۔
فضیلۃ العالم اکرام اللہ واحدی حفظہ اللہ
سائل: شیخ ایسے تو کسی کے پاس محض ایک تولہ ہے، نقدی کچھ نہیں ہے وہ بھی صاحب نصاب ہوگا؟
جواب: نہیں ہمارا موقف یہ ہے کہ کچھ سونا ہے کچھ پیسے ہیں۔ اگر صرف سونا ہے تو وہ اکیلا ساڑھے سات تولہ ہونا ضروری ہے۔
فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ




