سوال (6103)

اگر ایک بندے نے بھینسیں رکھی ہوئی ہیں تو اگر اسکے کپڑے پر انکے پیشاب کے قطرے وغیرہ پڑ جائیں تو کیا وہ نماز کے لیے بار بار کپڑے بدلے گا یا انہیں کپڑوں میں پڑھ سکتا ہے، اور ایک بندے کا ایلفی کے ساتھ کام ہے ہاتھ پر ایلفی وغیرہ لگ جائے تو کیا وہ ایلفی اتار کر نماز کے لیے وضو کرے یا ایسے بھی کر سکتا ہے، اور اگر کبھی کبھار کوئی ایلفی کا کام کرے اور ہاتھ پر لگ جائے تو اسکے لیے کیا حکم ہے؟ رہنمائی کر دیں۔

جواب

ماکول اللحم جانور کا گوبر اور پیشاب نجس نہیں ہوتا، صفائی ایک علیحدہ چیز ہے، نجاست الگ چیز ہے، جو لوگ بھینس اور گائے پالتے ہیں، نماز کے لیے کپڑے تبدیل کرتے ہیں تو اچھی بات ہے، ورنہ اگر چھینٹے لگ بھی جائیں تو کپڑے نجس نہیں ہوتے۔

فضیلۃ الشیخ عبد الرزاق زاہد حفظہ اللہ

ماکول اللحم کا بول و براز نجاست کے زمرے میں نہیں آتا، صفائی اچھی چیز ہے اس کا اہتمام ہونا چاہیے، لیکن وہ نجاست کے زمرے میں نہیں آتے ہیں، لہذا اس طرح باوضوء ہو کر نماز پڑھی جا سکتی ہے، باقی رہا ایلفی، اگر وہ معمولی مقدار میں ہے، وہ پانی کو جسم سے نہیں روکتی ہے، تو وضوء درست ہے، اگر زیادہ مقدار میں ہے، جو پانی کو جسم میں جانے سے روکتی ہے تو جو لوگ استعمال کرتے ہیں، وہ جانتے ہیں کہ اس کو کس قدر ہٹایا جائے گا، پھر اس کو ہٹا کر وضوء کرنا چاہیے۔

فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ

جی ماکول اللحم جانور کا پیشاب ناپاک نہیں ہوتا ہاں کسی کو بدبو یا نفرت ہو تو علیحدہ بات ہے شرعی لحاظ سے ناپاک نہیں۔ واللہ اعلم

فضیلۃ العالم ارشد حفظہ اللہ