سوال (6185)

ادعوهم لآبائهم یہ امر ہے اس کے بعد زید بن محمد کے بجائے زید بن حارثہ کہا جانے لگا لیکن اس کے باوجود سیدنا مقداد کی نسبت اسود کی طرف ہے نہ کہ عمرو کی طرف اس حوالے سے رہنمائی درکار ہے؟

جواب

نسبت توڑ کر نسبت کرنا یہ الگ چیز ہے، ایک نسبت پہچان کے لیے ہے، یا امتیاز کے لیے کسی اور کی طرف لے جانا، اس میں کوئی حرج نہیں ہے، خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ

“أنا النبي لا كذب أنا ابن عبد المطلب”

سیدنا یوسف علیہ السلام نے کہا تھا۔

“وَاتَّبَعۡتُ مِلَّةَ اٰبَآءِىۡۤ اِبۡرٰهِيۡمَ وَاِسۡحٰقَ وَيَعۡقُوۡبَ‌ؕ” [يوسف: 38]

یہ تمام نسبتیں ہیں، ابن تیمیہ اور اخت ہارون بھی ایک نسبت ہی ہے، اصل میں ایسا نہیں ہے۔

فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ

لو نسبه إنسان إلى أبيه من التبني فإن كان على جهة الخطأ، وهو أن يسبق لسانه إلى ذلك من غير قصد فلا إثم ولا مؤاخذة; لقوله تعالى وليس عليكم جناح فيما أخطأتم به ولكن ما تعمدت قلوبكم وكذلك لو دعوت رجلا إلى غير أبيه وأنت ترى أنه أبوه فليس عليك بأس; قاله قتادة. ولا يجري هذا المجرى ما غلب عليه اسم التبني كالحال في المقداد بن عمرو فإنه كان غلب عليه نسب التبني، فلا يكاد يعرف إلا بالمقداد بن الأسود; فإن الأسود بن عبد يغوث كان قد تبناه في الجاهلية وعرف به. فلما نزلت الآية قال المقداد: أنا ابن [ ص: 113 ] عمرو; ومع ذلك فبقي الإطلاق عليه۔” ( تفسیر قرطبی)

قتادہ رحمہ اللہ کے قول کو دیکھتے ہوئے ہم کہہ سکتے ہیں کہ سیدنا مقداد “ابن اسود” سے اتنے مشہور ہوگئے تھے کہ شاید کئی لوگ انہیں اسود کا بیٹا ہی سمجھتے تھے، اسی لئے احادیث میں مقداد بن اسود ہمیں زیادہ ملتا ہے بنسبت مقداد بن عمرو کے۔ واللہ اعلم

فضیلۃ العالم فہد انصاری حفظہ اللہ