سوال (4305)
اگر قرضا دینا ہو تو قربانی کے بارے کیا حکم ہے؟
جواب
اگر قرض بہت زیادہ ہے تو پہلے قرضہ اتارا جائے، قربانی کو بعد میں دیکھا جائے گا، اگر نارمل ہے، یہاں سے آتا ہے وہاں دے دیتا ہے، اگر اس طرح کے روٹین کے قرضے ہیں تو بہتر ہے کہ قربانی کا اہتمام کرے، اللہ تعالیٰ راضی ہوگا، اگر اللہ تعالیٰ راضی ہوگا تو قرضے بھی اتر جائیں گے، بس بندہ اپنی استطاعت اور وسعت کو دیکھ لے کہ کیا کرنا ہے۔
فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ
سوال: ایک شخص جو کہ تقریباً پانچ لاکھ روپے کا مقروض ہے اور ابھی وہ قرض اتارنے کی پوزیشن میں بھی نہیں ہے، کیا وہ قربانی کر سکتا ہے؟ کہ ابھی اس کے پاس کچھ گنجائش ہے اور وہ قربانی کا ارادہ رکھتا ہے۔
جواب: اگر کوئی شخص قرض دار ہو اور وہ ابھی قرض ادا کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے، تو ایسی صورت میں اس پر قربانی واجب نہیں ہے، چاہے اس کے پاس وقتی طور پر کچھ گنجائش بھی ہو، قربانی صاحبِ نصاب پر واجب ہے، اور نصاب کا مطلب ہے ایسا مال جس پر زکوٰۃ واجب ہو، قرض کی مقدار نصاب میں سے منہا کی جاتی ہے۔
ایک فقہی قاعدہ ہے کہ: اگر قرض اتنا ہو کہ مال نصاب سے کم ہو جائے تو اس پر زکوٰۃ یا قربانی واجب نہیں ہوتی۔
شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
فإذا كانَ عندَهُ دَينٌ، وكانَ المالُ الذي عندَهُ يُقابِلُ الدَّينَ، فلا أضحيةَ عليهِ.”(فتاوی نور علی الدرب)
اگر وہ پھر بھی قربانی کرنا چاہے؟
اگر قرض کی موجودگی کے باوجود وہ قربانی کے بعد قرض کی ادائیگی میں رکاوٹ محسوس نہیں کرتا،اور قربانی کرنے کی استطاعت رکھتا ہے (یعنی پیسہ بچ رہا ہے)،تو قربانی کرنا جائز ہے بلکہ باعثِ اجر ہے، مگر واجب نہیں۔
فضیلۃ الشیخ فیض الابرار شاہ حفظہ اللہ
بہتر یہ ہے کہ سب سے پہلے وہ قرضہ اتارے، کسی کے لیے یہ پانچ لاکھ بہت بڑا قرضہ ہو سکتا ہے، کسی کے لیے ہاتھ کا میل بھی نہیں ہوگا، وہ اپنا فیصلہ خود کرے، ہمارے نزدیک اولی یہ ہے کہ قرض کو پہلے مقدم رکھے، اگر وہ سمجھتا ہے کہ اس طرح کے معاملات میرے روٹین میں ہیں تو وہ پہلے قربانی کرلے، باقی ہمارے ہاں کوئی بھی نصاب کی شرط و قید نہیں ہے۔
فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ




