سوال (6005)
مرد اور عورت کے کفن میں کوئی فرق ہے؟
جواب
مرد اور عورت کا کفن ایک جیسا تین چادریں ہیں۔
ایک حدیث میں عورت کے لیے پانچ چادروں میں کفن دینے کا ذکر ہے لیکن اس کی سند صحیح نہیں کیوں کہ اس کی سند میں راوی مجہول ہے۔
فضیلۃ الباحث کامران الٰہی ظہیر حفظہ اللہ
کفن کے معاملے میں شریعت میں وسعت ہے۔ اس کی کوئی بھی مقدار نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے ثابت نہیں اور نہ ہی کوئی پابندی ہے، اس لیے جتنی بھی چادروں میں دے لیں درست ہے، کم از کم جسم ڈھانپنا ضروری ہے۔
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اجتہاد کرتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ و سلم کو تین چادروں میں کفن دیا تھا تو یہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا اجماع ہے کہ مرد کو تین چادروں میں غسل دینا مستحب ہے۔
البتہ عورت کا لباس چونکہ زندگی میں مرد سے زیادہ ہوتا ہے اس لیے تمام فقہاء کا اتفاق ہے کہ عورت کو کفن بھی زندگی پر قیاس کرتے ہوئے مرد سے زیادہ یعنی پانچ چادروں میں دینا چاہیے۔ اور یہ قول بعض تابعین سے بھی ثابت ہے۔
فضیلۃ الباحث حافظ محمد طاہر حفظہ اللہ
سائل: اگر پانچ چادریں دی جائیں تو وہ چادریں ہی ہوں گی یا خمار وغیرہ بھی بنایا جائے گا؟
جواب: اس میں بھی وسعت ہے۔
فضیلۃ الباحث حافظ محمد طاہر حفظہ اللہ




