سوال 6815
السلام علیکم و رحمۃ اللہ۔ شیخ سوال ہے کہ ایک امام ہے، جس طرح دیوبندی اور بریلوی ہیں، اگر کسی پہ شک ہو کہ اس بندے کا عقیدہ ٹھیک نہیں ہے، مطلب بدعات کی طرف ہے، تو کیا اس کے پیچھے نماز ہو جاتی ہے؟
جواب
وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
دیکھیں، اب شک و شبہ کی بات نہیں ہونی چاہیے۔ ہمیں یقین پر چلنا چاہیے۔ ہر شخص کا مکتبہ فکر واضح ہے اور اس کا عقیدہ بھی اسی کے مکتبہ فکر سے واضح ہوتا ہے، لہذا اسی حساب سے فیصلہ کریں۔
نماز جیسی عظیم عبادت کو شک کے گرد نہیں گھمانا چاہیے۔ بلا وجہ تاویلات میں پڑنے کی ضرورت نہیں۔ جس کا جو مکتبہ فکر ہے، اس کا عقیدہ اس کے ساتھ واضح ہے۔
البتہ یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ آیا وہ سنت کو فالو کر رہا ہے یا نہیں، اور کیا وہ واقعی سنت پر عمل پیرا ہے یا نہیں۔
فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ
سائل: السلام علیکم شیخ! اچھا اس طرح ہے کہ مطلب وہ کافی کاموں میں ملوث ہے جیسے گیارہویں شریف اور بھی اس طرح کے جو کام ہیں، بدعات ہیں، ان میں ملوث ہے۔ تو کیا اس طرح نماز پیچھے پڑھ سکتے ہیں؟
جواب: وعلیکم السلام۔ جب واضح ہو گیا کہ شرک و بدعت موجود ہیں تو چھوڑ دیں بس۔ پھر کیا ضرورت ہے؟ پھر تو نماز نہیں ہوتی ایسے لوگوں کے پیچھے۔
فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ




