سوال
ایک لڑکی کو تقریباً 33 سال کی عمر میں طلاق ہو گئی، اولاد نہیں تھی۔ اس کے بعد تقریباً 9–10 سال تک متعدد رشتے آئے مگر وہ راضی نہ ہوئی۔ پھر اسے نفسیاتی اور روحانی مسائل لاحق ہو گئے، جس کی بنا پر وہ یہ سمجھنے لگی کہ شاید اس پر جادو ہوا ہے۔ اس کے بقول اسے خواب میں ایک عورت کی شکل نظر آتی تھی، جس کے بارے میں وہ گمان کرتی ہے کہ اسی نے جادو کروایا ہے۔ یہ وہی عورت ہے جو آخری مرتبہ اپنے پڑھے لکھے، خوش اخلاق، خوبصورت، کنوارے بیٹے کے لیے رشتہ لے کر آئی تھی۔ وہ لڑکا اس لڑکی کے سب سے چھوٹے بھائی کا یونیورسٹی اور پھر بیرونِ ملک ماسٹرز کا کلاس فیلو تھا۔ گھر والوں کو اس رشتے پر کوئی اعتراض نہ تھا، لیکن لڑکی نے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ وہ لوگ دولت ہڑپ کرنا چاہتے ہیں، چنانچہ رشتہ نہ ہو سکا۔
بعد ازاں روحانی علاج کے لیے ایک عامل کا بتایا گیا جو بظاہر رقیہ شرعیہ کرتا تھا۔ علاج کے لیے لڑکی وہاں جانے لگی، اس کے ساتھ بڑا بھائی بھی جاتا تھا۔ اسی دوران بڑے بھائی نے مشاہدہ کیا کہ وہ عامل لوگوں کے ساتھ مکر و فریب اور جھوٹ سے کام لیتا ہے۔
اسی اثناء میں اس عامل نے ایک مسجد کمپلیکس بنانے کا منصوبہ بنایا، چار کنال جگہ تقریباً دو کروڑ چونسٹھ لاکھ میں طے کی، بغیر کوئی ایڈوانس دیے۔ موقع پر لڑکی کے چھوٹے بھائی کا 70 لاکھ روپے کا چیک لیا گیا، دو ماہ بعد کی تاریخ کے ساتھ۔ چھوٹا بھائی چیک دے کر بیرونِ ملک چلا گیا اور عامل کے ساتھ واٹس ایپ پر رابطے میں رہا، اور اسے فنڈز اکٹھا کرنے کی ذمہ داری بھی دے دی گئی۔ چونکہ بڑا بھائی موقع پر موجود تھا، اس لیے وہ کمیٹی کا اہم رکن بن گیا اور ہر میٹنگ میں شریک رہا، جس سے اسے عامل کے معاملات کو بہت قریب سے دیکھنے اور پرکھنے کا موقع ملا۔ رفتہ رفتہ اس پر عامل کے جھوٹ، فریب اور مالی معاملات کے بہت سے پہلو کھلتے گئے۔ جب صورتِ حال بالکل واضح ہو گئی تو بڑے بھائی نے عامل سے کنارہ کشی اختیار کر لی۔ بعد میں اصل مالکان نے اس جگہ پر قبضہ بھی کر لیا۔ بڑے بھائی نے گھر والوں کو بھی تاکید کی کہ اس عامل سے رابطہ نہ رکھیں۔
اس کے باوجود علاج کی غرض سے لڑکی کا رابطہ عامل سے رہا۔ پھر اسی عامل نے لڑکی کے رشتے کے لیے اس کی والدہ سے بات کی۔ لڑکی کے والد پہلے ہی جادو اور دماغی کمزوری کی وجہ سے شدید متاثر تھے، عمر بھی تقریباً 84 سال تھی۔ انہوں نے عامل کے بارے میں کسی قسم کی تحقیق یا جانچ پڑتال نہیں کی، نہ ہی بطورِ ولی اپنی ذمہ داریوں میں سے کوئی ذمہ داری ادا کی۔ حقیقت یہ ہے کہ بڑھاپے اور دماغی کمزوری کی وجہ سے وہ ولی کی ذمہ داری ادا کرنے کے اہل ہی نہیں رہے تھے۔
بہرحال، ماں اور بیٹی نے کسی طرح نکاح کے کاغذات والد صاحب سے دستخط کروا لیے۔ تقریباً ڈیڑھ سال بعد والدہ نے فیملی واٹس ایپ گروپ (کیونکہ سب بہن بھائی بیرونِ ملک ہیں) میں اچانک اعلان کیا کہ ہم نے اس لڑکی کا نکاح اسی عامل سے کر دیا تھا، اور خوابوں وغیرہ کے “اشارات” کا بھی ذکر کیا۔ اس نکاح کی کسی بہن بھائی کو خبر نہ تھی۔ ساتھ ہی والدہ نے تاکید کی کہ:
– خاندان میں کسی کو اس نکاح کا نہ بتایا جائے؛
– عامل کے اپنے گھر والوں (اس کی دو بیویاں، بچے، والدین، بہن بھائی) سے بھی اسے مخفی رکھا جائے؛
– اور عامل کے مخالفین یا حمایتی، مرد ہوں یا عورتیں، کسی کے سامنے اس نکاح کا ذکر نہ کیا جائے۔
یہ بھی قابلِ ذکر ہے کہ عامل کو معلوم ہے کہ لڑکی کے والد کے پاس کروڑوں کی جائیداد ہے۔ بڑا بھائی، جس نے تقریباً دو سال اس عامل کے ساتھ گزارے اور اس کے معاملات کو قریب سے دیکھا، اس رشتے کو سراسر باطل اور فتنہ سمجھتا ہے اور دل سے بالکل راضی نہیں۔ اب والدہ اچانک اعلان کے بعد فوراً چند دنوں میں رخصتی پر اصرار کر رہی ہیں۔ بڑا بھائی اس رخصتی میں خود کو اور اپنی فیملی کو الگ رکھنا چاہتا ہے، جبکہ والدہ کے نزدیک یہ نافرمانی ہے۔
اس صورتِ حال میں شریعتِ اسلامیہ کیا رہنمائی کرتی ہے؟
والسلام
جواب
الحمد لله وحده، والصلاة والسلام على من لا نبي بعده!
اس لمبے چوڑے سوال میں ظاہر ہے یکطرفہ بات کی گئی ہے، اللہ بہتر جانتا ہے کہ اس میں کس قدر حقیقت ہے، لیکن سوال کو مبنی بر حقیقت سمجھتے ہوئے اس کا جواب دیا جا رہا ہے، اگر سائل نے غلط بیانی کی ہو تو وہ اس کے جوابدہ ہیں۔
مذکورہ سوال میں بنیادی طور پر تین چار شرعی پہلو ہیں:
- ولی کی اہلیت کا صحت نکاح پر اثر
- نکاح کو خفیہ رکھنا
- کسی مشکوک اور متنازع شخص سے نکاح کا حکم
- بھائی کا رخصتی سے الگ رہنا
ذیل میں چاروں باتوں کی وضاحت قرآن وسنت کی روشنی میں پیش خدمت ہے:
شرعاً نکاح کے صحیح ہونے کے لیے بنیادی شرائط یہ ہیں:
- لڑکا اور لڑکی دونوں کی رضامندی
- ولی (باپ وغیرہ) کی اجازت
- دو عاقل، بالغ مسلمان گواہ
- ایجاب و قبول (نکاح کے الفاظ)
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
«لَا نِكَاحَ إِلَّا بِوَلِيٍّ وَشَاهِدَيْ عَدْلٍ»
’’ولی اور دو عادل گواہوں کے بغیر نکاح نہیں ہوتا‘‘۔ [صحيح ابن حبان:4075، إرواء الغليل:1860]
اور ایک اور حدیث میں ہے:
”أَيُّمَا امْرَأَةٍ نَكَحَتْ بِغَيْرِ إِذْنِ وَلِيِّهَا فَنِكَاحُهَا بَاطِلٌ فَنِكَاحُهَا بَاطِلٌ فَنِكَاحُهَا بَاطِلٌ“.
’جوعورت بھی اپنے ولی کے بغیر نکاح کرے اس کا نکاح باطل ہے ۔اس کا نکاح باطل ہے ۔ اس کا نکاح باطل ہے‘۔ [سنن ابوداود: 2083]
سائل کے مطابق لڑکی کے والد 84 سال کے، دماغی کمزوری اور جادو کے اثرات سے شدید متاثر تھے، وہ نکاح کے وقت عامل کے بارے میں کوئی تحقیق، مشورہ، خیر و شر کی پہچان، یا ذمہ دارانہ فیصلہ کرنے کی اہلیت نہیں رکھتے تھے، ماں بیٹی نے کسی طرح کاغذات پر دستخط کروا لیے، جبکہ باپ حقیقتِ حال سے تقریباً بے خبر تھے، باقی بہن بھائیوں کو مکمل طور پر لاعلم رکھا گیا؛ نکاح کو خفیہ رکھا گیا، حتیٰ کہ عامل کے اپنے گھر والوں سے بھی۔
ایسی صورت میں دو اہم شرعی نکتے ہیں:
(الف) ولی کی اہلیت (ولایت کا اہل ہونا)
ولی کے لیے ضروری ہے کہ عاقل ہو، معاملہ سمجھنے کی صلاحیت رکھتا ہو، خیر و شر میں تمیز کر سکتا ہواور لڑکی کے حق میں خیرخواہ ہو۔
اگر کوئی شخص شدید دماغی کمزوری، بڑھاپے، یا بیماری کی وجہ سے معاملات کی باریکی، خیر و شر، نفع و نقصان کو سمجھنے سے قاصر ہو، تو ایسے شخص کی ولایت میں کیا گیا نکاح محلِ نظر ہو جاتا ہے۔
لہٰذا محض دستخط کروا لینا کافی نہیں، بلکہ یہ دیکھنا ضروری ہے کہ نکاح کے وقت وہ واقعی سمجھ بوجھ کے ساتھ، خیر و شر کو جانتے ہوئے، ذمہ دارانہ طور پر ولی کی حیثیت سے فیصلہ کر رہے تھے یا نہیں۔
ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے:
“لَا نِكَاحَ إِلَّا بِوَلِيٍّ مُرْشِدٍ”. [السنن الصغير للبيهقي:2376، وحسن إسنادَه ابن حجر فی الفتح :9/ 191]
نکاح کےلیے ’ولی مرشد‘ کا ہونا ضروری ہے۔
یعنی اس کے ہوش و حواس اور عقل و خرد کا موجود ہونا ضروری ہے جو عورت کے فائدہ و نقصان میں تمیز کرسکتا ہو، اور کھوٹے کھرے کی پہچان رکھتا ہو۔
البتہ یہ دعوی کہ ولی یعنی باپ ذہنی طور پر فیصلہ کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے، اس کے لیے کسی ایک فریق کے زبانی کلامی دعوے کی بجائے میڈیکل رپورٹس، سابقہ علاج کے کاغذات، قریبی لوگوں کی گواہیوں کے ذریعے یہ ثابت کرنا ہو گا۔ اگر یہ ثابت ہو جائے کہ وہ اس وقت ولی بننے کا اہل نہیں تھا، تو یہ نکاح باطل اور فاسد قرار دیا جائے گا۔
(ب) نکاح کو خفیہ رکھنے پر اصرار
یہاں دوسرا مسئلہ نکاح کو خفیہ رکھنے کا ہے۔
نکاح کو اس طرح تمام بہن بھائیوں سے، خاندان سے، اور عامل کا اپنے گھر والوں سے بھی چھپانا، یہ سب خود بہت بڑا شبہ اور فتنہ ہے۔ شریعت میں نکاح کو خفیہ کی بجائے اعلانیہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
نبی ﷺ نے فرمایا:
«أَعْلِنُوا هَذَا النِّكَاحَ».
’نکاح کا اعلان کرو‘۔ [مسند أحمد:16130، إرواء الغلیل:1993]
اسی طرح سائل کا اگر یہ دعوی درست ہے کہ مذکورہ عامل لوگوں کے ساتھ مالی معاملات میں مکر و فریب، جھوٹ اور دھوکہ سے کام لیتا ہے؛ خیراتی کاموں کے نام پر کروڑوں کا سودا، بغیر ایڈوانس، دوسروں کے چیک استعمال کرنا، پھر جگہ پر قبضہ وغیرہ؛ خوابوں، کشوف اور “اشاروں” کو بنیاد بنا کر لوگوں کو اپنے جال میں پھانسنا؛ لڑکی کے والد کی جائیداد سے واقف ہونا، اور اسی گھر میں خفیہ نکاح کی کوشش؛ یہ سب اس کے دین و اخلاق پر بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔
نبی کریم ﷺ نے نکاح کے بارے میں اصول بتایا:
«إِذَا جَاءَكُمْ مَنْ تَرْضَوْنَ دِينَهُ وَخُلُقَهُ فَزَوِّجُوهُ، إِلَّا تَفْعَلُوا تَكُنْ فِتْنَةٌ فِي الْأَرْضِ وَفَسَادٌ عَرِيضٌ».
’جب تمہارے پاس کوئی ایسا شخص رشتہ لے کر آئے جس کے دین اور اخلاق سے تم راضی ہو تو اس کا نکاح کر دو، اگر ایسا نہ کرو گے تو زمین میں فتنہ اور بڑا فساد ہو گا‘۔[سنن الترمذي:1085]
جبکہ یہاں معاملہ اس کے برعکس ہے کہ دین و اخلاق دونوں مشکوک ہیں، مالی لالچ اور فریب کے آثار واضح ہیں، نکاح خفیہ رکھا جا رہا ہے، لہذا ایسے شخص سے نکاح کرنا شرعاً سخت ناپسندیدہ ہے، اور اگر ظلم، فریب اور مال ہڑپنے کا غالب گمان ہو تو اپنی بہن، بیٹی کو اس کے حوالے کرنا قطعا درست نہیں۔
مذکورہ تمام صورت حال کو سامنے رکھتے ہوئے سائل کا یہ کہنا کہ ہم اس نکاح/ رخصتی سے الگ رہنا چاہتے ہیں، جبکہ والدہ کہتی ہیں کہ آپ میری نافرمانی کریں گے، تو اس حوالے سے گزارش ہے کہ بھائیوں کو باپ کے بعد ولی ہونے کی حیثیت سے ان معاملات میں آگے آنا چاہیے اور معاملات کی تحقیق و تفتیش کرنی چاہیے نہ کہ اس نکاح سے الگ تھلگ رہنا چاہیے۔ کیونکہ اگر ان کا یہ دعوی درست ہے کہ ہمارے والد محترم ولایت کی اہلیت نہیں رکھتے تو والد کے بعد یہ ذمہ داری ان بھائیوں کی ہی ہے، جن کے لیے اپنی اس ذمہ داری میں کوتاہی کرنا درست نہیں۔
کیونکہ اگر ولی اقرب موجود ہو، لیکن عاقل و بالغ نہ ہو، تو پھر ولایت ولی ابعد کی طرف منتقل ہو جاتی ہے۔
یاد رہے کہ والدہ محترمہ کامل احترام و کرام کے باوجود ولی بننے کی اہلیت نہیں رکھتی اور نہ ہی انہیں شرعی طور پر یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ ولی کی حیثیت سے اپنی بیٹی کا کہیں نکاح کروا سکیں۔ اگر لڑکی کا باپ ولایت کا اہل نہیں تو ماں کے لیے لازمی ہے کہ وہ اپنے بیٹوں کو اعتماد میں لے کر ان کی سرپرستی میں بیٹی کے نکاح کے معاملات سر انجام دیں۔ اگر والدہ اپنی بات پر مصر رہیں تو ان کی بات ماننا درست نہیں اور یہ نافرمانی تصور نہیں کی جائے گی۔ واللہ اعلم۔
وآخر دعوانا أن الحمد لله رب العالمين
مفتیانِ کرام
فضیلۃ الشیخ ابو محمد عبد الستار حماد حفظہ اللہ
فضیلۃ الشیخ ابو عدنان محمد منیر قمر حفظہ اللہ
فضیلۃ الشیخ عبد الحلیم بلال حفظہ اللہ
فضیلۃ الشیخ مفتی عبد الولی حقانی حفظہ اللہ
فضیلۃ الشیخ محمد إدریس اثری حفظہ اللہ
فضیلۃ الشیخ عبد الحنان سامرودی حفظہ اللہ



