سوال (3892)
امام صاحب تیسری رکعت کے لیے کھڑے ہوئے ہیں، رفع الیدین کیا ہے، جبکہ مقتدی کی پہلی اور ساتھ والے مقتدی کی دوسری رکعت ہے، کیا وہ بھی امام کے ساتھ رفع الیدین کریں گے یا اپنی ترتیب سے تیسری رکعت میں کریں گے۔
جواب
یہ بین بین معاملہ ہے، اس میں شدت کا پہلو نہیں اختیار کرنا چاہیے، کیونکہ کوئی نص نہیں ہے، کوئی دو رکعت کے بعد اپنا اعتبار کرتا ہے تب بھی صحیح ہے، امام کی اقتداء کرتا ہے، تب بھی صحیح ہے۔
فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ
سوال: محترم شیوخ عظام! سوال یہ ہے کہ جو بندہ پہلی، تیسری یا چوتھی رکعت میں امام کے ساتھ جماعت میں شامل ہوتا ہے، امام کے سلام پھیرنے پر باقی نماز مکمل کرنے کے لیے کھڑے ہوتے وقت اس کا رفع الیدین کرنا درست ہے؟ اگر درست ہے تو اس کی دلیل کیا ہے؟ مہربانی فرما کر وضاحت فرما دیں۔جزاکم اللّٰہ خیرا۔
جواب: امام کے سلام پھیرنے کے بعد جو شخص اپنی باقی نماز ادا کرنے کے لیے کھڑا ہوتا ہے، وہ رفع الیدین کرنے یا نہ کرنے میں آزاد ہے۔ اس بارے میں کوئی صریح نص موجود نہیں کہ لازماً رفع الیدین کیا جائے یا نہ کیا جائے۔ البتہ اگر وہ چاہے تو رفع الیدین کر سکتا ہے، کیونکہ تشہد میں کچھ دیر بیٹھنے کے بعد جب آدمی کھڑا ہوتا ہے تو وہاں رفع الیدین ثابت ہے، اور یہاں بھی وہ تشہد پڑھ چکا اور دعائیں بھی کر چکا ہوتا ہے، اس پر قیاس کرتے ہوئے رفع الیدین کیا جا سکتا ہے۔
اور اگر کوئی یہ سمجھے کہ یہاں رفع الیدین کی ضرورت نہیں، کیونکہ جہاں جہاں اسے کرنا تھا وہ پہلے ہی کر چکا ہے، تو یہ بھی درست ہے۔ ان شاء اللہ اس سے نماز پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ ایسے مسائل میں سختی اور تشدد نہیں ہونا چاہیے۔
فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ




