مشرقِ وسطیٰ کے حالات اور ایک صدی کی جنگوں کا محاسبہ
✍️کامران الہی ظہیر
اس وقت مشرقی وسطی جنگی شعلوں کی لپیٹ میں ہے۔ ایک طرف امریکہ اور اسرائیل کی عسکری دہشت گردی اور دوسری جانب ایران کا رد عمل جو بظاہر دفاع کے نام پر کیا جا رہا ہے مگر ان سارے اہداف اور طریقہ کار پر کئی سوالات جنم لیتے ہیں۔
مشرقی وسطی جو جنگ کی لپیٹ میں ہے،میری نظر میں اس کے کئی پہلو ہیں جن الگ الگ زاویہ سے دیکھنا چاہیے تاکہ حقیقت تک پہنچنے میں بقدر آسانی پیدا ہو سکے۔
جب سے امریکہ پر ایک کامیڈیین صدر مسلط ہوا ہے تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے طاقت عقل پر غالب آ چکی ہو کیوں کہ اس کے بیانات میں دھمکیاں، پالیسیوں میں جارحیت اور فیصلوں میں وہ توازن دکھائی نہیں دیتا جو ایک صدر کے وقار اور مقام کے لئے لازم ہوتا ہے۔
اور میرے خیال میں یہ کہنا بھی بے جا نہ ہوگا کہ وہ اپنے حواس کھو بیٹھا ہے، کیونکہ ایک طرف تو وہ دنیا سے امن کا نوبل انعام لینے کی بھیگ مانگ رہا ہے جبکہ دوسری طرف پوری انسانیت کو ایک نئی تباہی کے دہانے پر کھڑا کرنے کے در پر ہے،حتی کہ ایران کو صفحۂ ہستی سے مٹانے کے بیانات دے چکا ہے۔
اگراصولی طور پر دیکھا جائے تو کسی بھی خودمختار ریاست پر حملہ، چاہے وہ کسی بھی بہانے سے ہو، بین الاقوامی قوانین خصوصاً اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے۔
آج کی تاریخ تک مریکہ اور اسرائیل کی جانب سے کیے جانے والے حملوں میں اکثر شہری آبادی متاثر ہوئی ہے اور سکول کے بچوں تک تو شہید کیا گیا یہ سب واقعات نہ صرف اخلاقی طور پر قابلِ مذمت ہیں بلکہ جنگی قوانین (Laws of Armed Conflict) کی بھی صریح خلاف ورزی ہیں۔لیکن یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے اگر تاریخ کے اوراق پلٹے جائیں تو امریکہ کی عسکری مداخلتوں کی ایک طویل فہرست سامنے آتی ہے۔
Libya Intervention
ہو یا Syrian Civil War میں مداخلت ہر جگہ ایک ہی نقش ابھرتا ہے۔
پھر تاریخ کے صفحات میں یہ بات بھی درج ہے کہ جب Japan کے دو شہر Hiroshima اور Nagasaki لمحوں میں راکھ بنا دیے گئے۔
Atomic bombings of Hiroshima and Nagasaki
صرف ایک جنگی فیصلہ نہیں تھا، بلکہ انسانیت کے ماتھے پر ایک ایسا داغ تھا جسے تاریخ کبھی مٹا نہیں سکی اور یہ سیاہی بھی امریکہ کے حصے میں آئی۔
ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو بے گناہ کئی سالوں سے پابند سلاسل رکھنا اور گھٹیا پن کا وارث بھی امریکہ ہی ہے ۔
میری یادداشت مجھے یہ بھی بتاتی ہے کہ امریکہ پاکستان میں ڈرون حملے کیا کرتا تھا اور وینزویلا کے صدر کو اغوا کرنے کا احمقانہ فیصلہ بھی چند ماہ قبل کا ہے۔
اسی تسلسل کی ایک طویل اور دردناک کڑی War in Afghanistan بھی ہے۔
دو دہائیوں پر محیط اس جنگ نے نہ صرف افغانستان کی سرزمین کو لہولہان کیا بلکہ ایک پوری نسل کو عدم استحکام، ہجرت اور خوف کے سائے میں پروان چڑھنے پر مجبور کیا۔ دہشت گردی کے خاتمے کے نام پر شروع ہونے والی یہ جنگ خود ایک ایسی جنگ میں بدل گئی جس میں عام شہری سب سے زیادہ متاثر ہوئے۔ آخرکار امریکہ کو وہاں سے انخلا کرنا پڑا۔
پھر اسی امریکا کے گٹھ جوڑ سے ظلم و بربریت کے ریکارڈ قائم کرنے والی منحوس اور ناجائز ریاست اسرائیل نے فلسطینیوں پر جو ظلم کے پہاڑ توڑے ہیں جہاں معصوم بچے لقمہ اجل بنے، جہاں ماؤں بہنوں بیٹیوں اور بیٹوں کو بے دردی سے شہید کیا گیا،یہ دیکھ سن کر انسانیت کا سر شرم سے جھک جاتا ہے اور یہ ایک ایسا زخم ہے جو آج تک تازہ ہے، جہاں ظلم اور انسانی حقوق کی پامالی ایک معمول بن چکی ہے۔
یہ سب واقعات اسی دنیا کی تاریخ کا حصہ ہیں۔ اور میں یہ بھی بتاتا چلوں کہ اب تک امریکہ نے دو سو سے زائد جنگوں میں حصہ لیا ہے، لاکھوں انسانوں کا خون بہایا ہے،کئی آزاد ملکوں میں رجیم چینج کیا ہے، لیکن اس کے باوجود دہشت گردی کا لیبل ہمیشہ باقی دنیا پر ہی کیوں چسپاں کیا جاتا ہے؟
ہمیشہ طاقت کے بل پوتے پر کئے جانے والے فیصلوں کی قیمت عام انسان کو ہی کیوں ادا کرنا پڑتی ہے؟۔
اس جنگ کا دوسرا پہلو ایران کے رد عمل کا ہے، یہاں یہ بات سوچنے سمجھنے کے لائق ہے کہ کیا اس رد عمل میں واقعتاً انصاف ہی سے کام لیا جا رہا ہے یا پھر اندر کے بغض اور نفرت کا اظہار ہو رہا ہے۔ اب تک کے بیانات سے
ایران کا یہ مؤقف سننے کو ملا ہے کہ وہ اپنا دفاع کر رہا ہے یہ بات تو قابلِ فہم ہے کیوں کہ ایک آزاد ریاست کو اپنے دفاع کرنے کا کامل مکمل حق ہے،مگر اس آڑ میں سعودی عرب اور دیگر عرب ممالک پر میزائل حملے کرنا کسی طور بھی منصفانہ عمل نہیں ہے،چاہے یہ جواز پیش کیا جائے کہ وہاں امریکی و اسرائیلی تنصیبات موجود ہیں۔
اگر ایران بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کرنے کا حامی ہے تو اسے پتا ہونا چاہیے کہ بین الاقوامی قوانین واضح طور پر ایسے اقدامات کو ناجائز قرار دیتے ہیں، لیکن میری حیرانی میں اضافہ ہوتا کہ تاریخ کے اوراق یہ بتاتے ہیں کہ جب امریکہ عراق کو صفحۂ ہستی سے مٹانے کے درپے تھا، اس وقت بھی ایران کا کردار مکمل طور پر منصفانہ نہیں تھا،بلکہ کئی ایسے امور بھی تاریخ کا حصہ ہیں جہاں ایران نے اپنے پڑوسی ملک عراق کے بجائے امریکہ کو فائدہ پہنچایا اور پھر اس سے قبل ایران کئی اہلِ سنت مسلمانوں کو شہید کر چکا ہے، جس سے یہ تاثر بھی ابھرتا ہے کہ اس کے اندر عرب ممالک کے خلاف ایک مخصوص بغض موجود ہے جو وقتاً فوقتاً ظاہر ہوتا رہتا ہے لیکن اس کو دفاعی رد عمل کہنا اور اس کی حمایت کرنا جہالت کے سوا کچھ نہیں ہے۔
اب چلتے ہیں جنگ کے تیسرے اور اہم پہلو کی طرف جو بظاہر عرب ممالک سے جڑا ہے۔
اب وقت آن پہنچا ہے کہ عرب ممالک کو اپنے مفادات سے ہٹ کر سوچنا ہوگا،کیوں کہ جس امریکہ کو انہوں نے اپنے ممالک میں اڈے دیے، وہ ان ممالک کا کبھی خیر خواہ نہیں رہا نہ ہو سکتا ہے کیوں کہ قرآن کا اٹل فیصلہ کہ کافر کبھی مسلمانوں کے دوست اور خیر خواہ نہیں ہو سکتے
امریکہ صرف اور صرف اپنے مفادات کا محافظ ہے؟ اس کی حالیہ مثال یہ ہے کہ ایران جنگ سے قبل امریکہ عرب ممالک سے اپنے فوجیوں کا انخلاء کر چکا تھا۔ اس لئے حقیقت یہ ہے کہ جب تک یہ اڈے موجود رہیں گے، مسلم ممالک براہِ راست یا بالواسطہ جنگ کا میدان بنتے رہیں گے۔
لہٰذا وقت اس بات کا متقاضی ہے کہ عرب ممالک اپنے ملکوں سے امریکی اور اسرائیلی اڈے فوری ختم کریں تاکہ آئے روز اس طرح کی مزاحمت اور تباہی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
اگر گزشتہ ایک صدی کی جنگوں پر ایک طائرانہ نظر ڈالی جائے تو یہ حقیقت مزید واضح ہو جاتی ہے کہ دنیا کے مختلف خطے بار بار جنگ کی لپیٹ میں آتے رہے، اور ان جنگوں میں متعدد ممالک براہِ راست یا بالواسطہ طور پر شامل رہے۔
دوسری جنگ عظیم میں جرمنی، جاپان اور اٹلی کے مقابلے میں امریکہ ،سویت یونین، انگلینڈ اور دیگر اتحادی ممالک صف آراء ہوئے۔ بعد ازاں Cold War کے دوران اگرچہ براہِ راست تصادم نہ ہوا، مگر Korea، Vietnam، Afghanistan اور افریقہ و لاطینی امریکہ کے کئی ممالک اس کشمکش کا میدان بنے۔
برصغیر میں پاکستان اور انڈیا کے درمیان مسلسل جنگی کیفیت رہی ہے۔ جس کے نتیجے میں سقوطِ ڈھاکہ ہوا، مگر کشمیر کا تنازع بدستور قائم ہے۔
مشرقِ وسطیٰ میں اسرائیل کے قیام کے بعد Egypt، Syria، Jordan اور دیگر عرب ممالک کے ساتھ مسلسل جنگیں ہوئیں، جبکہ فلسطین آج تک اس تنازع کا سب سے بڑا متاثر فریق ہے۔ اسی خطے میں ایران اور ایراق آٹھ سالہ جنگ میں الجھے رہے، اور بعد میں ایراق اور کویت کے تنازع نے عالمی طاقتوں کو براہِ راست مداخلت پر مجبور کیا۔
اکیسویں صدی میں امریکہ کی قیادت میں افغانستان اور ایران میں جنگیں ہوئیں، جبکہ Syria خانہ جنگی کا شکار ہوا، جہاں امریکہ ،روس اور دیگر طاقتیں بھی مختلف انداز میں شامل رہیں۔ حالیہ برسوں میں روس اور یوکرین کے درمیان جنگ نے یورپ کو ایک بار پھر عدم استحکام سے دوچار کر دیا ہے۔
ان تمام مثالوں کو یکجا کر کے دیکھا جائے تو ایک طویل فہرست سامنے آتی ہے جس میں یورپ، ایشیا، مشرقِ وسطیٰ اور دیگر خطوں کے ممالک شامل ہیں۔
اس پوری صدی کے تجربے کا خلاصہ یہ ہے کہ کبھی بھی جنگ کسی ایک خطے یا قوم تک محدود نہیں رہی، بلکہ یہ ایک عالمی رجحان کی صورت اختیار کر جاتی ہے جہاں طاقتور ممالک اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے کمزور خطوں کو میدانِ جنگ بناتے ہیں، جبکہ چھوٹے ممالک خودمختاری، بقا اورشناخت کی جنگ لڑتے رہتے ہیں۔نتیجتاً ایک مستقل اور پائیدار امن آج بھی انسانیت کی سب سے بڑی آرزو بنا ہوا ہے۔
آخر میں یہی کہوں گا کہ سوال صرف یہ نہیں کہ کون طاقتور ہے، بلکہ یہ ہے کہ کون انصاف کے ساتھ کھڑا ہے۔مجھے خدشہ لاحق ہے کہ اگر طاقت کا یہی رخ رہا تو تاریخ ایک بار پھر خود کو دہرا سکتی ہے اور شاید اس بار نقصان پہلے سے کہیں زیادہ ہو۔



